دین و ایمان سے ہاتھ دھوتی قوم کی یہ بچیاں اور ہماری بے حسی
مفتی سید محمد حذیفہ قاسمی بھیونڈی
15اکتوبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)
اس وقت ملک کے مختلف علاقوں سے مسلم نوخیز بچیوں کے مرتد ہونے، دین و ایمان سے ہاتھ دھو کر غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ کورٹ میریج کرنے کے واقعات آئے دن اخبار کی سرخیوں میں نظر آرہے ہیں۔ اس قسم کے واقعات کو پڑھ کر ہم میں اکثر کی غیرت و حمیت میں کسی قسم کا کوئی جوش یا اس کے تدارک کی کوئی کوشش نظر نہیں آرہی ہے۔ سوائے معدودے چند ایسے افراد کے جن کے اندر ابھی دینی غیرت و ملی حمیت کی کچھ رمق باقی ہے۔ وہ بیچارے اپنی بساط کے بقدر ذمہ داران ملت سے فریاد کرتے نظر آرہے ہیں،،،، آئے دن سوشل میڈیا پر اس قسم کی خبریں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت اس قسم کے واقعات اتنی تیزی کے ساتھ کیوں نمودار ہو رہے ہیں ؟
اس کے حقیقی محرکات و اسباب کیا ہیں؟
اور اس کا تدارک اور درد کا مداوا کیا ہوسکتا ہے؟
اس سلسلے میں بڑوں سے معذرت کے ساتھ مجھ جیسے کم علم و کم فہم کی نظر میں اس کی حقیقی بنیاد یہ ہیکہ ہماری ملت کا ایک بڑا طبقہ اپنے بڑوں سے بہت دور اور کسی حد تک متنفر و بیزار نظر آرہا ہے۔ ہم دینی حلقوں میں اپنے مریدین و خوشامدیوں کے درمیان رہتے ہوئے دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوکر اپنے اپنے محدود دائروں اور محدود دائرہ کاروں کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔،،۔
حتی کہ ہم دینی خدمات سے وابستہ افراد صرف اور صرف اہنے کام کو کام بقیہ دیگر لوگوں کے کاموں کو یا تو کام ہی نہیں سمجھتے یا اپنے مقابلے میں کمتر تصور کرتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مدارس و مساجد سے لے کر چھوٹی بڑی دینی تنظیموں تک سب باہم ایک دوسرے کے ساتھ دست بہ گریباں نظر آرہے ہیں۔ جسکی وجہ سے ملت کا وہ طبقہ جو ان حلقوں سے وابستہ نہیں ہے ، گرچہ وہ اپنے طور پر دینی امور پر عمل پیرا ہے، لیکن اس مزکورہ بالا دینی طبقے سے انتہائی دور بلکہ کسی حد تک متنفر نظر آرہا ہے۔
ہمارے اصلاح معاشرہ و ملی بیداری کے جلسے جلوس اسکولوں، کالجوں، مسجدوں اور مدرسوں سے باہر نہیں ہو پارہے ہیں۔ ظاہر سی بات ہیکہ ہمارے مدارس و مساجد یا مخصوص طرز کے اسکولوں سے جو طبقہ پہلے سے ہی بہت دور ہے اس کو ہمارے ان پروگراموں اور ہماری ان بڑی بڑی کانفرنسوں سے کیا سروکار؟اور ان کو اس سی کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟
یہ ہے اصل وجہ:
ملت کے مختلف طبقات کے درمیان اس خلیج کی جس کا فائدہ اٹھا کر باطل طاقتوں نے ہمارے نوجوان بچوں اور بچیوں پر اپنی یلغار اور اپنی سازشوں کے جالوں کے پھندے ہماری نئی نسل کی گردنوں میں ڈال رکھے ہیں۔جس کے نتیجے میں وہ سارے واقعات رونما ہورہے ہیں جن کو آپ ہر روز اخبار کی سرخیوں میں ملاحظہ کر رہے ہیں۔ ہماری وہ بچیاں جن کے مرتد ہونے ، دین و ایمان سے ہاتھ دھونے اور غیروں کے جال میں پھنس کر اپنی عاقبت برباد کرنے کے واقعات سامنے آرہے ہیں، ان بچیوں کی اکثریت یا تو ان گھرانوں سے وابستہ ہیں جو اپنے آپ کو ماڈرن باور کرانے کے لئے تعلیم کے نام پر عریانیت اور آوارگی کو اپنے لئے باعثِ فخر سمجھتی ہیں اور غیر مسلم فرقہ پرست تنظیموں کی جانب سے چلائی جانے والی ٹیوشن کلاسیس یا آر ایس ایس کے تربیت کردہ،اور فنڈنگ کردہ نوجوانوں کے ساتھ اختلاط ، میل جول، ہوٹلوں اور لاجوں میں جانے آنے کا وہ سلسلہ جو بالآخر اس آخری منزل پر منتج ہوتا ہے جس کو ہم لَو میریج اور ارتداد کے نام سے جان رہے ہیں۔ یا وہ غریب بچیاں جن کے والدین اعلی تعلیم کے مہنگے خرچ برداشت کرنے کے لائق نہیں وہ اپنی گھریلو مجبوری کی بناء پر بادل نخواستہ اپنی عصمت و عفت کی چادر کو تار تار کرنے اور غیروں کے ہاتھوں کا کھلونا بننے پر مجبور ہیں۔اور بالاخر ایک دن وہ آتا ہے کہ ان کی آنکھوں سے شرم وحیاکا پانی مٹ جاتا ہے اور وہ اپنے خاندان کی عزت و عفت ، شرافت و وقار سب کو داؤ پر لگا کر دین و ایمان کے تصور سے بے پرواہ ہوکر وقتی دنیاوی منفعت کے حصول کی خاطر وہ قدم اٹھا ڈالتی ہیں جس کو ہم لَو میریج یا ارتداد سے تعبیر کررہے ہیں۔مرتد ہونے والی ان بچیوں کی فہرست ڈپارٹمنٹ آف رجسٹریشن اینڈ اسٹیمپ گورنمنٹ آف مہاراشٹرکی اس ویب سائٹ
(Department of Registeration and Stamp.Govt.of Maharashtra)
پر مل جائیں گی جس کے مطابق صرف ریاست مہاراشٹرمیں ہی گزشتہ دو ماہ میں مسلم بچیوں نے75سے زائد غیر مسلم نوجوانوں سے شادی کیلئے آن لائن ایپلی کیشن دی ہوئی ہیں۔
یہ صورتحال ہم جیسے غیرت ایمانی رکھنے والوں کے لئے کسی سوہانِ روح سے کم نہیں ہے اور ہم چھوٹے بڑے تنظیموں و اداروں کے ذمہ داران، شاید عنداللہ اسکی جواب دہی سے بری نہ ہو سکیں گے۔
ہم میں سے ہر شخص نے شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنا سر چھپا کر اپنے آپ کو محفوظ تصوّر کرلیا ہے۔
جلسے جلوس ،اسٹیجوں، بینروں اور پوسٹروں سے نیچے اتر کر نہ ہم ملت کے درمیان چلنے پھرنے کو تیار ہیں نہ ہی سسکتی بلکتی ہوئی دکھی انسانیت کے مسائل پرابلم اور دکھ درد کو اپنا درد ماننے کے روادار ہیں۔
ارتداد کا یہ سیلاب اس وقت تک نہیں رک سکتا جب تک کہ ہم ملت کے دین بیزار طبقے کو اپنے آپ سے اور اپنے آپ کو ان سے قریب کرنے کو تیار نہ ہوں۔ اسی طرح ملت کا وہ طبقہ جو غریبی کی سطح سے بھی نیچے زندگی گذارنے پر مجبور ہے ،اور ان کی بالغ بچیاں اپنے والدین کی خستہ حالی اور گھریلو بے سروسامانی سے مجبور ہو کر فیکٹریوں اور کمپنیوں میں چند ہزار کی نوکریاں پکڑنے اور ہوس پرست نوجوانوں کے ہاتھوں کھلونا بننے پر مجبور ہیں جس کی آخری منزل وہ فتنہء ارتداد ہے جو پھنسی سے پھوڑا اور پھوڑے سے ناسور بن کر آج ملت کے بدن پر بہہ رہا ہے اگر اس غریب طبقے کی کسی حد تک بھی فکر کر لی گئی ہوتی تو شاید یہ دن دیکھنے کی نوبت نہیں آتی۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم چھوٹے بڑوں کو ملت کے درمیان بیٹھ کر ان کے حقیقی مسائل و مشکلات کو سمجھنے، ان کے دکھ درد کو بانٹنے اور اس مرض کی حقیقی دوا تک پہنچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
کہ آ ج میرے دل میں کچھ درد سوا ہوتا ہے
