ارتداد کی مزید چند وجوہات !
شکیل رشید
(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز؍سرپرست ایڈیٹر بصیرت آن لائن)
مفتی حذیفہ قاسمی (بھیونڈی) اُن نوجوان علما میں سے ایک ہیں جن کی اپنی ایک پختہ سوچ ہے اور ملک وبیرون ملک جو کچھ ہورہا ہے اس سے باخبر بھی ہیں اور باخبری کے سبب صائب الرائے بھی ہیں۔ ان کی رائے لوگوں کی، بالخصوص نوجوان نسل کی ذہن سازی میںاہم کردار ادا کرتی ہے یا کرسکتی ہے۔ جمعہ کے روز سیوڑی کراس روڈ پر واقع ’پٹھان مسجد‘ میں ان کا خطاب تھا اور موضوع ’ارتداد‘ تھا۔ مفتی حذیفہ بھی ان خبروں سے کہ مسلم لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد غیر مسلم نوجوانوں سے شادیاں کرکے مرتد ہورہی ہے، متفکر ہیں ۔ اور ہونا بھی چاہئے۔ اسی لیے انہو ںنے اور ان کے متعلقین نے یہ کوشش کی ہے کہ شہر کی اہم مسلم شخصیات کو جمع کرکے یہ جو ’فتنہ‘ اُٹھا ہے اس کے سدباب کا حل نکالا جائے۔ ’ارتداد‘ کی وجہ کیا؟ کیوں مسلم لڑکیاں اور (لڑکے بھی )غیروں کے چنگل میں پھنس رہی ہیں؟ مسلمان کس قدر ، بالخصوص والدین بچوں کے ’ارتداد‘ کے ذمے دار ہیں؟ مسلم سماج کے کیا حالات ہیں؟ یہ چند ایسے سوالات تھے جو مفتی حذیفہ قاسمی کے خطاب کا موضوع تھے۔ انہوں نے بالکل درست کہا کہ آج سازش کے تحت مسلم لڑکیوں کو ورغلایا اور پھسلایا جارہا ہے۔ لیکن انہوں نے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ بتائی کہ یہ جو بچے ہیں، نئی نسل ، یہ دین کے بنیادی احکامات تک سے بے خبرہے۔ گھروں میں والدین بچوں کو دین کی بنیادی باتیں بتاتے نہیں، بچے کہا ں جارہے ہیں؟ کیا کررہے ہیں؟ اس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی۔تجارت اور کاروبار یا اپنے معاملات میں اتنی مصروفیت ہوتی ہے کہ بچوں کی فکر دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ مفتی صاحب کا یہ کہنا بھی یقیناً درست ہے کہ علمائے کرام، مبلغین وغیرہ کی پہنچ بمشکل پانچ فیصد لوگوں تک ہے، باقی کے ۹۵ فیصد بالخصوص نوجوانوںکا حال یہ ہے کہ وہ مذہب کے بارے میں شک وشبہ میں پڑے ہیں، ان کے شک کو زائل کرنے والا کوئی نہیں ہے لہذا وہ سازش کے آسان شکار ہیں، مرتد ہورہے ہیں، دین کو چھوڑ رہے ہیں،اور یہ ہم ہیں جو اس کے ذمے دار ہیں۔ مفتی صاحب نے مزید ایک بات کہی، بے حد اہم بات کہ ایسی خواتین بھی ہیں جو غربت کی وجہ سے جسم فروشی پر مجبور ہیں، برقعہ پہن کر باہر نکلنے پر مجبور ہیں تاکہ پیٹ کی آگ بجھاسکیں؛ ان کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ یہ حشر کے دن دامن تھامیں گی۔ اور پھر وہ امراء ہیں جو شادیوں پر بے پناہ خرچ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں غریب بچیوں کی شادیاں نہیں ہوپاتیں، ان کے والدین شادی کا ’خرچ‘ اُٹھانے سے قاصر رہتے ہیں، بچیوں کی عمریں ۳۰ ۔۳۰ سال کی ہوجاتی ہیں، ان کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ مفتی صاحب نے ایک اہم سوال کیا کہ بھلا یہ کالجوں میں جانے والی مسلم لڑکیاں کیوں ہندو لڑکوں کی طرف مائل ہوتی ہیں؟ ایک تو اس لیے کہ سازش کے تحت انہیں پھنسایا جاتا ہے اور وہ دینی احکامات سے آگاہی نہ ہونے کے سبب بہک جاتی ہیں، پھر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم لڑکوں کا تعلیمی گراف بہت پست ہے، وہ کالجوں تک بھی نہیں پہنچ پاتے، لڑکیاں تو اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہیں پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے مسلم لڑکوںکی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ مسلم لڑکیوں کےلیے مسلم لڑکوں میں جوڑ آسانی سے نہیں ملتا اور شباب انہیں بہکا دیتا ہے۔ مفتی حذیفہ قاسمی نے ارتداد کی یہ چند وجوہات بیان کی ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور حل نکالنے کی بھی ۔ یہ ہم سب کی ذمے داری ہے کیوں کہ پکڑ دوسروں کی نہیں ہماری ہوگی اور جب اللہ پکڑے گا تو ہم میں سے کوئی بچ نہیں سکے گا۔
(بی این ایس)
