سوتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش

نئی اشاعت

بدھ، 17 اکتوبر، 2018

سرجیکل اسٹرائک نمبر 46

سرجیکل اسٹرائک

(قسط 46)
ریپ یوگ یا لوو جہاد
یاسر ندیم الواجدی 

ملک میں گزشتہ چند ماہ سے یہ خبریں موصول ہورہی ہیں کہ مسلمان لڑکیاں غیروں کی چالبازیوں کا شکار ہوکر ان سے شادی کررہی ہیں اور اسلام ترک کرکے ہندوازم اپنارہی ہیں۔ ہر بڑے شہر میں ایسے واقعات درجنوں کی تعداد میں پیش آئے ہیں۔ اب سے چند سال پہلے جب کچھ ہندو لڑکیاں مسلمان لڑکوں سے شادی کرکے اسلام میں داخل ہوئیں تو ہندو شدت پسند تنظیموں نے ان واقعات کو لوو جہاد کا نام دیا۔ اس نعرے کو اتنا مشہور کیا گیا کہ سوشل میڈیا سے لیکر پرنٹ اور ٹی وی میڈیا تک اسی اصطلاح کا استعمال ہونے لگا، بلکہ خود بعض مسلمان بھی اس لفظ کا استعمال کرنے لگے، جب کہ وہ شادیاں محض محبت کی شادیاں تھیں ان کے پیچھے مذہبیت کارفرما نہیں تھی۔ 

اب جب کہ شدت پسند تنظیموں نے باقاعدہ مہم کے تحت مسلمان لڑکیوں کو جال میں پھنسانا شروع کیا ہے تو یہاں محبت کارفرما نہیں ہے بلکہ مذہبیت اور بالادستی کا شوق اصل محرک ہے، ورنہ مذہبی شدت پسند تنظیموں کو اس طرح کی شادیوں میں کیا دلچسپی۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ اگر ہمیں اس سازش کے خلاف مسلمانوں میں بیداری لانی ہے، تو ایک ایسا نعرہ ضرور دینا ہوگا جو اس سازش کے پیچھے کے فلسفے کی طرف بھی اشارہ کرتا ہو اور مقصد کی طرف بھی۔ یہ شادیاں مذہبی جنون کا نتیجہ ہیں جس سے ان تنظیموں کو ذہنی سکون ملتا ہے، یوگ بھی باباوں کے بقول ذہنی سکون کا باعث ہے، نیز ان شادیوں کا مقصد ہنسی خوشی زندگی گزارنا نہیں ہے بلکہ مسلمان لڑکیوں کی عصمت تار تار کرکے ان کی زندگیوں کو جہنم بنادینا ہے، اس لیے "ریپ یوگ" اس عمل کو بیان کرنے کے لیے ایک مناسب اصطلاح ہے اور اس تعلق سے بیداری لانے کے لیے یہ نعرہ دینا ضروری ہے۔ 

سرجیکل اسٹرائک کی اس قسط میں ریپ یوگ پر گفتگو کے لیے ملک کی دو بڑی اور اہم تنظیموں سے وابستہ شخصیات بطور مہمان شرکت کررہی ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سیکریٹری جناب مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب اور جماعت اسلامی ہند کی سپریم کونسل کے رکن جناب مولانا الیاس فلاحی صاحب۔ امید ہے کہ اس پروگرام میں ہونے والی گفتگو سے عوام وخواص نیز جماعتوں وتنظیموں کو کوئی مضبوط لائحہ عمل مل سکے گا۔ 


ہوم