درگا پوجا ۔۔۔۔کفروشرک کا میلہ
گزشتہ کئی روز سے برادران وطن کا مذہبی تہوار "دُرگا پوجا" دشہرہ جاری ہے، اور شاید کل ١٩ اکتوبر،بروز جمعہ مکمل ہو جائے گا، اس تہوار میں میلے لگتے ہیں، جشن منائے جاتے ہیں، برادران وطن مذہبی عبادت کیلئے بت تراشتے ہیں اور انکی پوجا کرتے ہیں، کثیر تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں، عورتوں وغیرہ کا بھی ہجوم رہتا ہے، اس موقع پر بہت سے ناواقف مسلم نوجوان: لڑکے، لڑکی بلکہ بعض ادھیڑ عمر کے مسلمان بھی شریک ہوجاتے ہیں، بعض مقامات میں مسلم سماج شوق سے اس تہوار میں شریک ہوکر رونق میں اضافہ کرتا ہے، جبکہ برادران وطن کے اس مذہبی تہوار میں شرکت کرنا،ناجائز ہے ، کیونکہ برادران وطن اس تہوار میں مورتی کی پوجا اور عبادت کرتے ہیں جو شرک ہے، اور شرک ایسا خطرناک گناہ ہے جس کی کوئی بخشش نہیں، مسلمان اس میلے میں شرکت کرکے مورتی کی پوجا اور شرکیہ عمل کو انجام تو نہیں دیتے ہیں،لیکن شریک ہو کر انکی تائید، اور رونق افزائی کا ذریعہ بنتے ہیں،اور جس طرح خلافِ شرع، شرکیہ امور کا ارتکاب ممنوع ہے، اسی طرح ایسی جگہ جا کر انکی رونق میں اضافہ کرنا بھی ممنوع ہے، اس لئے کہ ہماری شرکت انکے کفر و شرک کی عملی تائید، اور اسکو اچھا سمجھنا ہے،جبکہ ایمان صرف کفر و شرک سے اجتناب کرکے اللہ کو اپنا معبود مانناہی نہیں ہے بلکہ کفر و شرک سے اجتناب کے ساتھ انکو غلط تصور کرنا بھی ضروری ہے، یاد رکھیں ایمان کے دو حصے ہیں:ایک اللہ کو اپنا معبود ماننا،دوسرے کفروشرک اور شرکیہ کاموں سے علمی و عملی بیزاری اختیار کرنا اس دوسرے حصے سے بہت کم لوگ واقف ہیں جبکہ لا الہ الا اللہ میں دوسرے حصے کو پہلے بیان کیا گیا ہے۔اب اگر ہم مورتی دیکھنے جاتے ہیں یا ایسے تہوار میں شرکت کرتے ہیں جہاں مورتی کی پوجا کی جاتی ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ ہم اس کو اچھا سمجھ رہے ہیں جبکہ ہمیں اسے غلط جاننا بھی ضروری ہے، ۔
أمیرلمؤمنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے لا تَعلَّمُوا رَطانةَ الأَعاجِم، ولا تَدخُلُوا علىَ المُشرِكِين في كَنَائسِهِم يَومَ عِيدهُم، فإنَّ السَخطةَ تَنزِلُ عَلِيهِم نہ تو کافروں کا خاص لہجہ سیکھو، اور نہ ہی مُشرکوں کے تہواروں والے دِن اُن کی عبادت گاہوں میں داخل ہو کیونکہ ایسے میں اُن پر اللہ کا غصہ نازل ہو رہا ہوتا ہے(سنن البیھقی میں صحیح سند کے ساتھ روایت ہے)
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے، وَالَّذِينَ لا يَشْهَدُونَ الزُّ ورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَاماً اور وہ جو بے کار کاموں کی طرف نہیں دیکھتے اور اگر فضول کاموں والی جگہوں سے گذر ہو تو عزت کے ساتھ گذر جاتے ہیں (سُورت الفُرقان/آیت72،
اِس فرمان مُبارک کی تفیسر میں مفسر ابن کثیرصحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی طرف سے " الزُّ ور " کی تفیسر " کافروں کے تہوار " بھی لکھتے ہیں ۔)
یہ اور ان جیسے فرمودات سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلم کے تہواروں میں کِسی قسم کی شمولیت ناجائز کام ہے اس لئے ہمیں ایسے میلے اور تہوار میں شرکت سے بچنا چاہئے، ماں باپ اور ذمہ دار کو چاہیے کہ وہ ایسے امور کے ارتکاب سے اپنے ماتحتوں، بچوں، اور اولاد کو سختی کے ساتھ روکیں !
بحیثیت انسان غیر مسلم سے تعلقات برقرار رکھنا منع نہیں،معاشرتی زندگی میں نرمی اچھائی، ان سے بات چیت کرنا،خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے ، دکھ درد، غم و تکلیف کے وقت انکی داد رسی کرنا چاہئے! لیکن ان کے غلط عقیدہ و عمل کو صحیح سمجھنا، تائید و توثیق کرنا، یاانکے تہواروں میں شریک ہونا نہ صرف خلاف شرع ہے بلکہ ہمارے ایمان کےلیے زہر قاتل بھی ہے ، ہمیں خود کو، متعلقین اور ماتحتوں کو اس سے روکنا چاہئے ۔۔
اللہ تعالی ہم سب کو حسنات کی توفیق دے، اور سیئات سے ہماری حفاظت فرمائے!
بلال احمد قاسمی
١٨،اکتوبر، ٢٠١٨ء
جاری کردہ
مجلس تحفظ ختم نبوت ٹرسٹ ضلع بانکا بہار( الہند)
