مسلمان لڑکیاں ارتداد کے دہانے پر
تحریر: مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی
(سجادہ نشیں خانقاہ رحمانیہ٬ مالیگاؤں)
سوشل میڈیا ڈسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
ملک کے مختلف علاقوں سے یہ روح فرسا خبریں مسلسل آرہی ہیں کہ مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں سے شادی کر رہی ہیں، اور اپنا دین و ایمان اور ضمیر وحیا بیچ کر اپنے خاندان اور اپنے سماج اور معاشرے پر بدنامی کا داغ لگا رہی ہیں، اس طرح کے اکا دکا واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں، لیکن ادھر چند برسوں سے باضابطہ پلاننگ کے تحت مسلمان لڑکیوں کو جال میں پھنسایا جا رہاہے،اور آئے دن ان لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے،جو بے حیائی کے راستے پر بڑھتے ہوئے ارتداد تک پہونچ رہی ہیں،گذشتہ سال مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک پروگرام میں مہاراشٹر کے مشہور شہر پونہ جانا ہوا تو ایک صاحب ملنے کے لیے آئے انہوں نے بتایا کہ ان کی بھانجی کالج میں پڑھتی تھی، کالج کے قریب ایک دلت نوجوان کینٹین چلاتا تھا، اس کے دام محبت میں پھنس کر بھانجی نے کورٹ میرج کر لی، اور کئی مہینے اس کے ساتھ رہی پھر بہت سمجھانے بجھانے کے بعد واپس آئی،اور ہم نے اسے دوبارہ کلمہ پڑھوایا، ایما ن میں داخل کیا مگر اب بھی وہ اسی کے پاس جانے کی ضد کرتی ہے، روتی ہے اور ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دوبارہ اس کے پاس نہ چلی جائے۔ان صاحب کے چلے جانے کے بعد پونہ کے چند ذمہ دار احباب نے بتایا کہ ہمارے یہاں پچھلے ایک سال میں
( اکتوبر 2016ء سے اکتوبر 2017ء تک ) 44مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کرچکی ہیں، ابھی چند دن پہلے خاص اسی مسئلے سے متعلق پونہ کے احباب ملنے کے لیے آئے تو انہوں نے بتایا کہ
اگست میں11؍مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کی درخواستیں دائر ہوئی ہیں اور پچھلے مہینے
(ستمبر) میں 12؍لڑکیوں نے درخواست دی ہے۔مہاراشٹرکے دوسرے اور شہروں سے بھی اس طرح کی خبریں آرہی ہیں چنانچہ
بمبئی میں12،تھانے میں7، ناسک میں2، اور امراوتی میں2؍لڑکیوں نے شادی کی درخواست دی ہے،
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ صرف مہاراشٹر میں ہی ایسے واقعات نہیں ہو رہے ہیں بلکہ ملک کی مختلف ریاستوں سے برابر خبریں موصول ہو رہی ہیں،
اگست کے وسط میں بھوپال جانا ہوا تھا ، وہاں مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی برائے خواتین کی ذمہ دار بہنوں نے بتایا کہ بھوپال کی گنجان مسلم آبادی والے ایک علاقے میں اس طرح کے دسیوں واقعات ہو چکے ہیں، اور صرف غیر شادی شدہ لڑکیاں ہی نہیں شادی شدہ عورتیں بھی اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر غیر مسلموں کے ساتھ چلی گئی ہیں دہلی سے ملی اطلاعات کے مطابق جھونپڑ پٹی والے علاقے میں بسنے والی مسلمان لڑکیاں فرقہ پرست عناصر کی اس منصوبہ بند سازش کا’’لقمۂ تر‘‘بنی ہوئی ہیں، گذشتہ شعبان میں احمد آباد حاضری ہوئی تو وہاں کے علماء نے بتایا کہ ہمارے یہاں ہر دوسرے تیسرے دن سوشل میڈیا پرخبر آتی ہے کہ فلاں مسلمان لڑکی کسی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہے یا فلاں لڑکی نے کورٹ میرج کی عرضی داخل کی ہے، بات یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان لوگوں نے یہاں تک بتایا کہ مسلمان لڑکیوں کو رجھانے ،قریب کرنے اور پھر ان کاجنسی استحصال کرنے کے لیے گراں قیمت تحفے دیئے جاتے ہیں، مثلاً مہنگے موبائیل ،آئی پیڈ، لیپ ٹاپ، ایکٹیوا بائک وغیرہ، باضابطہ ان کی ’’فنڈنگ‘‘کی جا رہی ہے اور ایک سونچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں اس کام پر لگایا گیا ہے، اوپر بھی یہ بات میں نے لکھی ہے اور اب دوبارہ وضاحت کے ساتھ لکھنا چاہتاہوں کہ یہ اتفاقی واقعات نہیں ہیں۔ بلکہ ان کے پیچھے ایک سونچا سمجھا منصوبہ کام کر رہاہے،’’لو جہاد ‘‘نام کی کوئی چیز اس ملک میں نہیں ہے، البتہ یہ ’’شوشہ‘‘صرف اس لیے چھوڑا گیا تھا کہ ہندو نوجوانوں میں ’’انتقامی جذبہ‘‘ ابھارا جائے اور خود مسلمانوں کو ’’لو جہاد‘‘میں الجھا کر اندرون خانہ مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنے کا کھیل کھیلا جائے۔ پہلے یہ بات ڈھکی چھپی رہی بھی ہو تو اب ڈھکی چھپی نہیں رہ گئی ہے۔ پچھلے سال چند ایسے ہی روح فرسا واقعات کی وجہ سے اس عاجز نے اس پورے مسئلے پر اپنے طور پر تحقیق کی ، اوراپنے بعض احباب کو بھی اس کام پر لگایا، اس کے جو نتائج سامنے آئے وہ حیران کن بھی تھے اور انتہائی تشویش ناک بھی!
مناسب معلوم ہوتاہے کہ ترتیب سے ان باتوں کو لکھوں۔
(1)باضابطہ ایسے ہندو جوانوں کی ایک ٹیم تیار کی گئی ہے، جن کا کام ہی محبت کے نام پر مسلمان لڑکیوں کو تباہ و برباد کرنا ہے۔ یہ لو گ پہلے ہمدردی کے نام پر کسی مسلمان لڑکی سے قریب ہوتے ہیں، پھر محبت کا فریب دیتے ہیں، اور شادی کا وعدہ کرتے ہیں، اور پھر جنسی استحصال کا مرحلہ شروع ہو جاتاہے اور جب وہ لڑکی عفت و عصمت کا گوہر لٹاچکتی ہے اور اس لڑکے سے شادی کا اصرار کرتی ہے تو پھر کورٹ میں کورٹ میرج کی درخواست دی جاتی ہے۔ میرے علم کے مطابق ایک مہینے کے بعد اس درخواست پر عمل در آمد ہوتا ہے، یہ مدت اس لیے بھی رکھی گئی ہے کہ اگر گھر والوں یا کسی اور کو کوئی اعتراض ہو تو وہ کاروائی کر سکتا ہے
(اس سلسلے میں جو دھاندلی کی جا رہی ہے اس کا تذکرہ کسی اور مضمون میں کروں گا انشاء اللہ)
گھر والوں کو نوٹس جاری کرنا بھی لازمی اور ضروری ہے، جس کے ذریعے یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ آپ کا لڑکا /لڑکی نے کورٹ میرج کی عرضی داخل کی ہے ، اب جب یہ درخواست داخل ہوتی ہے تو خود وہ شادی کی درخواست دینے والا نوجوان کسی ذریعہ سے اس درخواست
( جس پر مسلمان لڑکی اور غیر مسلم لڑکے کا فوٹو ہوتا ہے کہ یہ دونوں شادی کرنے جا رہے ہیں)
کی تصویر لے کر کسی اور کے ذریعے سوشل میڈیا پر وائرل کروا دیتا ہے۔ جب مسلمانوں کوخبر ہوتی ہے تو وہ اس شادی کو روکنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ سماجی دباؤ بنایا جاتاہے، نتیجتاً شادی رک جاتی ہے، اب لڑکی کی نگاہ میں مجرم ہوتے ہیں اس کے ماں باپ، بھائی بہن اور اس کے سماج اورمذہب کے لوگ، اورخود اس غیر مسلم لڑکے کو ’’کلین چٹ ‘‘مل جاتی ہے اور وہ انتہائی ’’معصوم دیوتا‘‘کے روپ میں سامنے آتا ہے، لڑکی بدنام ہو گئی، خاندان پر ننگ وعار کادھبہ لگ گیا، اور یہ لڑکی ہمیشہ کے لیے ’’ڈپریشن ‘‘ کا شکا ر ہو گئی اورایک باوقار اور پاکیزہ زندگی اور بہترین خاندانی نظام کی تشکیل اور قیام سے محروم ہو گئی، کہیں اس کا نکاح بھی ہو جائے تو وہ اچھی زندگی نہیں گذار سکتی اور اگر نکاح نہ ہو تو پھر چوری چھپے اس لڑکے سے ملنے، ناجائز تعلقات قائم کرنے کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔
(2)اس سے آگے کی شکل یہ ہے کہ محبت کے فریب میں پھنسا کر اور جذباتی طور پر اپنے آپ سے قریب کر کے ’’ترک مذہب‘‘پر آمادہ کیا جاتاہے اور باضابطہ شادی کر کے چند مہینے یا سال بھر ساتھ میں رکھا جاتاہے، اس کے بعد آئے دن کے جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں ، چونکہ اس شادی کی وجہ سے یہ لڑکی اپنے خاندان اپنے سماج سے بالکل کٹ چکی ہوتی ہے، ا س لیے اب واپسی کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں، اس لیے اسی ’’شوہر‘‘کے ساتھ رہنا اس کی مجبوری ہے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر وہ شوہر اپنی اس بیوی سے جسم فروشی کرواتا ہے یا پھر طلاق دے کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
(3)اس گھناونے کھیل کا سب سے بڑا اور کھلا میدان کالجس ہیں، جہاں کی مخلوط تعلیم نے اس کھیل کے لیے بہترین اور محفوظ اسٹیج فراہم کیا ہے، کتنے غیر مسلم لڑکے ہیں جن کو فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے اچھی اردو سکھانے اور بہترین اردوشاعری کی تعلیم دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ مسلمان لڑکی کو دام فریب میں پھنسانے کے لیے وہ اس ہنر کا بھی استعمال کرتے ہیں، اور کچی عمر کی جوان لڑکیاں بہت جلد اس ہتھکنڈے سے متاثر ہو کر ان کی آغوش میں چلی جاتی ہیں ، اور پھر یہی بے حیائی انہیں ارتداد کی شاہراہ تک پہونچا دیتی ہے۔
العیاذ باللّہ !
کالج کے علاوہ ٹیوشن کلاسیس بھی اختلاط ،بے حیائی اور پھر دین و ایمان سے محرومی کاذریعہ بن رہی ہیں، پڑھنے والے طلبہ تو شکاری بنے ہی ہوئے ہیں، پڑھانے والے ٹیچرس اور پروفیسرس بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں، ایسے واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں کہ کسی ٹیچر نے نوٹس دینے کے بہانے گھر بلایا اور پھر ورغلا کر یا زبردستی اس لڑکی کے ساتھ غلط حرکتیں کیں اور خفیہ طریقے سے اس کاویڈیو بنا لیا اور بعد میں وہی ویڈیو دکھا کر اس لڑکی کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع کر دیاگیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لڑکی غیروں کے ہاتھوں میں ’’کھلونا‘‘ بن گئی، مہاراشٹر کے پربھنی شہر کے بعض احباب نے یہ اطلاع دی کہ اس طرح کے ویڈیو با ضابطہ ٹیچرس نے ایک دوسرے کو بھیجے، اور اس پر اس طرح کے تفریحی جملے لکھے کہ’’ دیکھا میں نے کیسے بیوقوف بنایا،‘‘یا’’اس لڑکی کو میں نے کیسے خراب کیا؟ ‘‘
اس طرح کے ویڈیو کا یہ نتیجہ بھی سامنے آیا کہ لڑکی کا نکاح ہونے کے بعد بھی گھر اجاڑ دینے کی دھمکی دے کر نکاح کے بعد بھی جنسی استحصال کیا گیا، اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہ ’’لڑکی‘‘ہر قسم کے مطالبات پورے کرتی رہی۔
(4)جو مسلمان لڑکیاں دینی ذہن یا گھر کی تربیت کی وجہ سے کچھ محتاط ہوتی ہیں، ان کو قابو میں لانے کے لیے دوسری غیر مسلم لڑکیوں کا سہارا لیا جاتا ہے وہ لڑکیاں اس لڑکی سے دوستی کرتی ہیں اور پھر وہ اپنے بھائی یا دوست کی حیثیت سے غلط قسم کے لڑکوں سے ان کاتعارف کراتی ہیں، اور پھر بات بڑھتے بڑھتے بے حیائی ،یا ارتداد تک پہونچتی ہے۔
(5) موبائیل اور زیراکس کی دوکانوں کے ذریعے بھی مسلمان لڑکیوں کے نمبر اور ان کی تصویریں اور دوسری معلومات ان لڑکوں تک پہونچائی جارہی ہے، جو اس کام پر لگے ہوئے ہیں، ویسے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مسلمان لڑکیوں تک پہنچنا آسان ہوگیا ہے، مسلمان بن کر بھی بعض غیر مسلم لڑکے مسلمان لڑکیوں سے فیس بک وغیرہ پر دوستی کرتے ہیں ، اور جب بات آگے بڑھ جاتی ہے اور ملاقاتیں شروع ہو جاتی ہیں او ر یہ راز کھلتا ہے کہ’’ محبوب ‘‘مسلمان نہیں ہے غیر مسلم ہے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
(6)مسلمان لڑکیوں کو ورغلانے اور دام فریب میں پھنسانے کے لیے روپئے پیسے کا بھی بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، کئی علاقوں سے یہ خبر مل چکی ہے کہ بڑے قیمتی تحفے مسلمان لڑکیوں کو دیئے جاتے ہیں اوران کے ذریعے ان کے دل میں جگہ بنائی جاتی ہے، اسی طرح ہمدردی کا ہتھیار بھی استعمال کیا جاتاہے، کسی ذریعہ سے اگر معلوم ہو گیا کہ یہ لڑکی پریشان ہے، یا اس کے گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں یا پھر یہ کہ اس کے گھر کے لوگ اس پر توجہ نہیں دیتے ہیں تو فورا ً’’بھیڑ کی کھال ‘‘ اوڑھ کرکوئی بھیڑیا سامنے آ جاتا ہے اور مصنوعی ہمدردی کا ڈرامہ رچاتا ہے اور پریشانیوں اور مشکلات سے جوجھ رہی لڑکی اسے اپنا ہمدرد سمجھ کر اس کے قریب ہوتےجاتی ہے۔ یہاں تک کہ عفت و عصمت کا گوہر لٹا بیٹھتی ہے یا پھر فریب محبت میں گرفتار ہوکر دین وایمان تک سے محروم ہوجاتی ہے۔
یہ صورت حال ایسی سنگین ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ پانی سر سے نہیں چھت سے اونچا ہوتا جا رہا ہے ۔
ہم کب بیدار ہوں گے ؟
ہم اپنی بہنوں ،بچیوں اور بیٹیوں کو بچانے کے لیے کب آگے آئیں گے؟
خواب غفلت کب تک ؟
نظر انداز کرنے کا مزاج کب تک ؟
جب حالات ایمرجنسی کے ہوں ، جب معاملات سنگین صورت حال اختیار کرلیں، جب دین و ایمان پر یلغار کی جائے، جب عفت وعصمت کے سودے چکائے جائیں، جب منظم منصوبے کے تحت مسلمان لڑکیوں کی زندگیاں تباہ وبرباد کی جائیں، اس وقت خاموشی جرم ہے، سنگین جرم!
ایسے حالات میں کم اہم یا کم ضروری مسائل پر توجہ دینا زیادتی ہے، بد ترین زیادتی!
یہ ایسا اہم مسئلہ ہے جسے مسجد کے محراب و منبر سے بیان کیا جائے ، جسے جلسوں اور مجلسوں کا موضوع بنایا جائے،جس کے پیش نظر خاندانی نظام کی اصلاح پر بھرپور توجہ دی جائے، جس کی وجہ سے اپنے گھر کی بچیوں پر کڑی نظر رکھی جائے، خطرے کی تلوار سر پرلٹکتی ہوئی محسوس کر کے مخلوط تعلیم سے بچنے اور غیر مخلوط تعلیمی نظام کے قائم کرنے کی فکر کی جائے۔
ارتداد کی بڑھتی پھیلتی لہر کو روکنے کے لیے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر پر عمل ضروری ہے۔
(1)اسلامی نظام کے مطابق مسلمان بچیوں کو پردے کا پابند بنایا جائے، ان میں حیاداری، عفت و عصمت کی حفاظت کاجذبہ، اور عقیدۂ توحید و رسالت کی عظمت پیدا کی جائے۔روزانہ ہمارے گھروں میں آدھے گھنٹے ہی سہی کسی اچھی مستند اور ذہن و دل کو متاثر کر دینے والی کتاب کی تعلیم کی جائے۔
(2)مخلوط نظام تعلیم سے اپنی بچیوں کو بچایا جائے، غیر مخلوط تعلیمی نظام کے قیام پر بھرپور توجہ دی جائے اور محفوظ ماحو ل میں معیاری تعلیم کاانتظام کیا جائے۔
(3)جو لڑکیاں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہیں، ان کی دینی تعلیم وتربیت اور ذہن سازی کی بھرپور کوشش کی جائے ، ان کی عادات ، اطوار ، اخلاق پر پوری نظر رکھی جائے، کردار سازی میں معاون بننے والا لٹریچر انہیں مطالعے کے لیے دیا جائے۔
(4)ٹیوشن کلاس کے نام پر اجنبی لڑکوں سے اختلاط کا موقع نہ دیا جائے، کسی ٹیچر یا ساتھی طالب علم کے گھر پر کسی تعلیمی ضرورت کے نام سے بھی جانے کی اجازت نہ دی جائے، کالج لانے لے جانے کا خود انتظام کیا جائے۔
(5)اینڈرائڈ موبائیل اور بائک خرید کر نہ دی جائے، یہ دونوں چیزیں بے حیائی کے دروازے کھولنے والی اور عفت وعصمت کی تباہی کے دہانے تک پہونچانے والی ہیں ۔
(6)موبائیل ریچارج یا زیراکس کے لیے غیر مسلموں کی دوکان پرجانے کی اجازت نہ دی جائے، اسی طرح کالج کے اندر یا اس سے قریب غیر مسلموں کے کینٹین سے بچنے کی ہدایت دی جائے۔
(7) غیر مسلم لڑکیوں کی دوستی سے بھی روکا جائے کہ آئندہ یہ دوستی بھی کسی فتنہ کا دروازہ بن سکتی ہے۔
(8) بچیوں کے مسائل اور ان کو پیش آنے والی پریشانیوں پر توجہ دی جائے،
یاد رکھیں ! گھر میں توجہ کی کمی باہر کا راستہ دکھاتی ہے۔

