سوتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش

نئی اشاعت

اتوار، 14 اکتوبر، 2018

ندوہ اور علیگڈھ کو آگ لگادو

ندوہ اور علیگڈھ کو آگ لگادو: 

" اگر آپ اپنی بچیوں کو نظریہ نہیں دو گے تو باطل دے گا "

فکری طور پر افلاس زدہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو قیادت کا دعوے دار ہے احتساب بھی اسی کا ہو گا۔ آج ملی اور مذہبی قیادت پر جو حضرات براجمان ہیں، اگر ارتداد کی اس بھیانک آندھی میں ان سے سوال جرم ہے تو یہ بچیاں کیا پہلے ہی سے خارج از اسلام تھیں جو ان کے تئیں مذہبی قیادت تنقید و احتساب سے بالاتر قرار دے دی جائے ۔ ہم لوگ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف آپسی موضوعات میں تو سر کھپانے کے لیے تیار رہتےہیں، لیکن ارتداد جیسی خطرناکی پر مدارس و کالجز کی افضلیت اور ایک دوسرے کے نصاب پر تنقید کی بات کرتےہیں، الله کے واسطے بتائیے کہ اس سے گھٹیا صورتحال اور کیا ہوگی؟ 
مذہب پر اعتراض یا مذہبی امور سے اختلاف کے سلسلے میں تو ہم تسلیم کرسکتے ہیں کہ علما کی بڑی تعداد اس سلسلے میں بری ہے، لیکن جب صورتحال ارتداد کی ہوجائے گی تو یقیناً پہلے گھر کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، پھر بتدریج ان کے متعلقین و متعلقات کو جوابدہ کیا جائے گا، لیکن اُن سب پر نگراں و نگہبان کون ہیں؟ 
ہمارے اکابر پر اللّٰہ رحمت برسائے، صرف ایک واقعہ ارتداد کا آج سے ایک صدی قبل پیش آیاتھا، 
انیسویں صدی کی ابتدا میں یہ واقعہ ارتداد شاہجہان پور میں ہوا تھا ۔ جس کا ندوے کے سالانہ جلسہ میں ذکر و تجزیہ کرتے ہوئے بڑے درد کے ساتھ علامہ شبلی نعمانی رح نے فرمایا تھا کہ اگر تم ارتداد کو نہیں روک سکتے تو *ندوہ کو بھی آگ لگا دو اور علیگڑھ کو بھی پھونک دو*
آج بھی ہم یہی کہیں گے ۔ کم از کم اپنے گھر والوں سے تو یہ پُردرد شکوہ ہم ضرور کرینگے، خاطی سب ہیں لیکن ہم سب سے پہلے اپنا جرم تسلیم کرتےہیں، اور اس ارتداد سے دعوتی، تہذیبی اور نظریاتی سطح پر لوہا لینے کے لیے میدان میں بھی اتر رہے ہیں، بخدا، سینکڑوں کی تعداد میں مسلمان لڑکیوں کے ارتداد کی بنیادی وجہ یہ کہ ہماری اسلامی بہنیں نظریات سے خالی ہیں، شعور تو دور کی بات انہیں معاملہ فہمی تک سے ہم دور رکھتے ہیں، آپ اگر اپنی بہن بیٹیوں کو نظریہ نہیں دینگے تو باطل دے گا، غیر مشنریاں دینگی،،  المناک حقیقت تو یہ ہیکہ اسلام میں خواتینِ اسلام کے لیے مستقل فنون و نظریات موجود ہیں لیکن آج تک ہم نے اسے کبھی بھی اپنی بہنوں تک پہنچانے کی ضرورت نہیں سمجھی! اس کے ذمہ دار علیگڑھ یونیورسٹی والے بھی ہیں اور ہمارے دارالعلوم ندوہ والے بھی ہیں، ارتداد وہ ذلّت ہے جس کا اضطراب اسقدر اضطراری ہوتا ہے کہ راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے!
لیکن ہم کیا کررہےہیں؟
اس موڑ کو آج کے دن یاد رکھیں مسلمان، عام خاص سبھی یاد رکھیں، اور کل قیامت کے دن اس کا سامنا کیجیے گا، لمبی لمبی تحریروں اور تقریروں کی اسوقت کوئی ضرورت نہیں ہے، اس وقت میدان عمل میں ایک عام رضا کار کی طرح تکلفات سے بالاتر ہو کے اترنے کی ضرورت ہے، کس منہ سے  لوگ اپنے اپنے کو اس ذلت کی ذمہ داری سے بچا رہے ہیں جبکہ حقائق کھلی کتاب کی طرح سامنے آچکے ہیں، اگر ۵۰ لڑکیاں یونیورسٹی اور عصری ادارے کی گود میں رہ کر مرتد ہوئی ہیں، تو اسی جگہ ہمارے اصلاح معاشرہ کے دفاتر بھی موجود ہیں، بڑے اور بہت بڑے بڑے مذہبی ذمہ داران وہیں پر پڑوسی بھی ہیں!
آپ کس کی آنکھوں میں دھول جھونک رہےہیں، مطلب ایک تو ایسی بحثوں کا یہاں کوئی تک ہی نہیں اس کے باوجود ایسی ڈھٹائی بھری باتیں کرنے پر لوگوں کو ذرا بھی شرم نہیں آتی کیا؟
افسوس صد افسوس ہم کس زبوں حالی کے شکار ہوگئے ہیں کہ اب سینکڑوں کی تعداد میں بچیاں مرتد ہورہی ہیں اور ہمارے پڑھے لکھے لوگ محنت اس بات پر کر رہے ہیں کہ، یہ ارتداد کا شکار ہونے والے کس نصاب کو پڑھ رہے تھے؟
یہ مرتد ہوئے تو اس میں ماسٹروں کی غلطی ہے یا مولویوں کی؟
باقاعدہ دعوت دی جارہی ہے کہ آؤ اور آکر اُن لوگوں پر تنقید کرو جو آج تک مدارس پر تنقید کررہےتھے، اس معرکہ ایمان و ارتداد میں الله کے واسطے آپ ہی بتائیے، اس انتقامی اور مولوی مسٹر کے بحث کا کیا جواز ہے؟
وہ کیسے ہمارے اسلاف تھے جو ایک واقعہ ارتداد سے تڑپ کر بول پڑے تھے، 
*اگر تم ارتداد کو نہیں روک سکتے تو ندوہ کو بھی آگ لگا دو اور علیگڑھ کو بھی پھونک دو*

سمیع الله خان 
ksamikhann@gmail.com


ہوم