سوتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش

نئی اشاعت

جمعہ، 26 اکتوبر، 2018

فتنہ ارتداد اور امت مسلمہ : حالات کے آئینے میں

فتنہ ارتداد اور امت مسلمہ : حالات کے آئینے میں

صدیق احمد جوگواڑ نوساری گجرات

متعلم: تکمیل افتا جامعہ قاسمیہ شاہی مراداباد

تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ زمانئہ جاہلیت میں عورت کی پیدائش کو عار اور شرم کی بات سمجھی جاتی تھی، صرف یہی نہیں بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ زندہ درگور کردیا جاتا تھا، اگر خدا نخوستہ کوئ عورت زندہ رہ گئی تو اسکے ساتھ ظالما نہ سلوک کیا جاتا تھا، لیکن جیسے ہی اسلام آیا اسلام نے عورتوں کے مقام و مرتبہ کی بلندی کو ظاہر کیا اور عورتوں کو عزت وشرافت اور بلند مقام ومرتبہ عطاء کیا، زمانئہ جاہلیت کے سارے رسم ورواج کو ختم کر کے عورتوں کو ایک عزت والی نئ زندگی دی، خواہ یہ لڑکی کی شکل میں ہو یا بہن یا ماں کی شکل میں، بہر صورت اسکو معاشرے میں باعزت قرار دیا اور جس طرح دیگر لوگوں کے حقوق کی ادائیگی پر تاکید کی اسی طرح اسکے حقوق پر بھی زور ڈالا،

الغرض!!! اسلام نے عورت کے مقام کو بلند کرکے حیات نو عطا کیا، اور عزت وشرافت کا تاج پہنا دیا، اب اسکی ذمہ داری اور فریضہ یہ تھا کہ اپنے عزت وشرافت کو داغ دار ہونے سے بچا کر عفت وپاک دامنی اختیار کرنے کے ساتھ اللہ تبارک وتعالی کے احکام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو ملحوظ رکھ کر اللہ تعالی کی شکر گذاری میں ہمہ وقت لگی رہتی ، آخر کیا بات ہے کہ معاملہ اسکے برعکس نظر آرہا ہے، اب تو عورت تو عورت مرد بھی اپنے شرافت وبزرگی اور عزت ووقار کو باقی رکھنے سے قاصر نظر آرہے ہیں ؟

آئیے آج کے حالات پر نظر ڈالیے اور دیکھیے کیا ہو رہا ہے.

عجیب ارتداد کی وباء پھیلی ہوئ ہے، ہر سمت سے مایوس کن خبر آرہی ہے، یہاں اتنی عورتیں مرتد ہوگئ اور ادھر اتنی عورتیں اسلام سے خارج ہوگئ، ہم مانتے ہیں کہ یہ سب ایک سازش اور منظم منصوبہ کے تحت ہو رہا ہے، اور ایسے لڑکوں کو مسلمان لڑکیوں کو جھوٹے عشق کے جال میں پھنسا کر انکے عصمت کو تا تار کرنے پر انعام بھی دیا جارہا ہے، لیکن ایسا کرنا کسی مذہب میں نہیں ہے لہذا اسے مذہب کے نام پر نہ دیکھا جاءے، بلکہ یہ شر پسند عناصر اور گندے ذہنوں کے لوگوں کی شرارت ہے جنھیں اپنی ماں بہن کی عزت کا بھی خیا ل نہیں تو کیا وہ غیروں کا خیال کریں گے، ؟ اسکے ساتھ ساتھ ہماری مسلم لڑکیوں کا بھی قصور ہے کہ وہ جاننے کے باوجود کس طرح انکے جال میں پھنس جاتی ہیں؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے نہ ادھر کی رہتی ہے نہ معاشرے کی، بالآخر یوں ہی ٹھوکر یں کھاتی ہوئ زندگی گزارتی رہتی ہے ،یاد رہے آخرت میں بھی جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا ، آخر ایسا پیسہ ایسی لالچ اور ایسی لذت کس کام کی جو انسان کو اصل حقیقی زندگی کی کامیابی سے محروم کر کے ہمیشہ کے لیے جہنم میں جھلسادے؟

افسوس صد افسوس!!! عقلوں پر پردہ پڑجاتا ہے دماغ ماؤوف ہو جاتا ہے،

کبھی آپ نے سوچا؟ قوم کاجائزہ لیا؟ اپنا محاسبہ کیا؟ آخر ان سب کی بنیادی وجہ کیا ہے؟

آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں، آپ جب ٹھنڈے دل سے سوچیں گے اور قوم کا جائزہ لیں تب پتہ چلے گا کہ اسکی بنیادی وجہ دین سے دوری، احکام شرعیہ سے ناواقفیت، اور اسلامی تعلیمات سے دوری، مغربی تہذیب میں ڈھل جانا، ماں باپ بھائ بہن سب کا ایک ساتھ سینیما دیکھنا، ماں باپ کا اپنی اولاد پر توجہ دینے انکی تربیت کرنے کے بجائے انہیں غیروں کے طریقوں پر چلنا سکھانا، اسکول و کالج کے ذریعے سے انکے اندر مغربی تہذیب ، فحاشی وعریانیت، کا پیدا ہونابدیہی بات ہے، کیونکہ خلط ملط والا ماحول آزادی، ہر مغربی مارڈرن رسم ورواج کا استقبال اور مشاہدہ کرنا ہی نہیں بلکہ اسمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا بھی پایا جاتا ہے، ماں باپ کا انکو ایسے طریقوں سے نہ روکنا جو اس طرح کے واہیات تباہیات پر مشتمل ہو، دینی تعلیم سے کورااور ناواقف رکھنا، لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کرنا ، یہ سارے وہ جرائم ہے جسکی ماں باپ یا ذمہ داران پرواہ کیے بغیر کسب معاش کی فکر میں لگے رہتے ہیں، انکے پاس تو اتنی بھی فرصت نہیں ہوتی کہ وہ گھر کا جائزہ لے کر بچوں بچیوں کے اچھائ یا برائ سے باخبر ہو سکیں، ہاں صورت حال کچھ ایسی ہی ہے، کسب معاش بھی زندگی گزارنے کےلیے ضروری ہے لیکن کیا اسکی وجہ سے اولاد کی تربیت کو چھوردیا جاءے، ہر چیز کو اعتدال کے ساتھ لیکر چلیں، ورنہ قیامت کے باز و پرس سے والدین بھی محفوط نہ رہ سکیں گے، جبکہ انھوں نے اپنے ذمہ داری ادا نہ کی ہو،

کیا آپ نے غور کیا کہ محمد بن قاسم صلاح الدین ایوبی بایزید بسطامی دیگر اولیاء اللہ کو بھی تو کسی ماں نے ہی جنم دیا تھا اتنے کم عرصے میں اتنا بڑا فرق کیوں؟

انکی ماؤں نے راتوں کو رو کر اللہ سے ما نگا تھا وہ متقیہ اور پرہیز گار تھیں ، اللہ کا خوف انکے دل میں رچا بسا ہوا تھا، ہمہ وقت ذکر خداوندی میں مشغول رہتی تھیں، انھوں نے حضرت عائشہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما کی زندگی نمونہ بنایا تھا اللہ تعالی کے احکام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بتلاءے ہوءے طریقے مطابق انھوں نے زندگی گزاری تھی، انھوں نے تربیت کے بارے میں زرہ برابر بھی کوتاہی نہیں کی تھی،یہی وجہ ہیکہ انکی اولادیں نیک اور صالح بڑے بڑے کارنامے انجام دینے والی بنی، کیونکہ ماں کا اثر اولاد پر پڑنا ایک ناقابل انکارحقیقت ہے،

مسائل کی کچھ جھلک تو سامنے آگئ لیکن اب حل کیا ہے اس پر نظر ڈالنے کے لیے ایک واقعہ کا سہارا لیتے ہیں، حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر جب چونٹیوں کو کچلنے والا تھا تو چونٹیوں کے سردار نے ان سے مخاطب ہوکر پہلے ڈرایا دھمکا یا متنبہ کیا کہ، ہوشیار ہوجاؤ لشکر تمھیں کچل نہ ڈالے اسمیں اصول سکھایا، جس میں ہمارے لیے سبق ہے، وہ یہ ہیکہ

سردار کو اپنی ذمہ داری کااحساس تھا اسکے تئیں اولا اس نے

حالات کی سنگینی بتلائ کہ کہیں، لشکر تمھیں کچل نہ ڈالے،

اسکے بعد مسائل کاحل بتلایا کہ، اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ،

دیکھیے ایک سردار کی فکر سے پوری قوم ہلاک ہونے سے بچ گئ اسی طرح ایک ذمہ داریاوالدیں کی فکر سے انکی اولاد اورماتحت لوگ نہیں بچ سکتے؟ ضرور بچ سکتے ہیں جبکہ حقیقت میں فکر مند ہو کر حکمت عملی کے ساتھ ہر ایک اپنی اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیں،

یاد رکھیں!!!

اگر اس طرح کی باتوں کو یا اس طرح کی کسی بھی چیز کو شوشل نیٹ ورک پر تشہیر دیں تو آپ مخالفین کے لیے معاون ومدد گار ثابت ہونگے جو یہی چاہتے ہیں،

لڑکیوں کو موبائل دینے سے اجتناب کرنے کے ساتھ ہر کس وناکس کے فون اٹھانے سے روک دیں،

تربیت میں ذرہ برابر لا پرواہی اور کوتاہی سے کام نہ لیں تھوڑی سی چونک اور لا پرواہی آپکے بچوں کے مستقبل کے لیے مہلک خطرناک اور جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے،

اولا کو شش یہ ہی کریں گھر میں ہی تعلیم دیں، ورنہ تو اسکول یا مدرسہ بھیجنے میں احتیاط کے ساتھ بحفاظت ممکن ہوسکے تو ہی بھیجے،

دینی تعلیم کو سر فہرست رکھیں، تربیت کرتے رہیں،

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام و صحابیات رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے واقعات گاہے بگاہے سنا تے رہیں،

معاشرے میں زندگی گذارنے کا اسلامی طریقہ بتلاتے رہیں، قدم قدم پر ہدایات و تنبیہات کرتے رہیں،

اچھے اخلاق سکھائیں،

اگر لڑکیاں کہیں بھی خطرہ محسوس کریں تو اپنے والدیں ذمہ داروں کو فورا آگاہ کرے اور وہ فورا کسی اسلامی تنظیم کے قائدوں کو مطلع کریں اور اسلامی تنظیم کو چاہیے کہ فوری طور پر اپنا نمائندہ بھیج کر حالات کا جائزہ لے کر اسکا حل نکالیں،

والدین اور اولاد دونوں ہی بیدار مغذی اور ہوشیاری سے کام لیں،

ذہنی ارتداد یعنی مغربی تہذیب میں ڈھلے ہوءے رسم ورواج کو ختم کر کے خالص اسلامی طریقہ اپنائیں،

علماء کے راءے مشورہ سے کام کریں،

احساس ذمہ داری کے ساتھ فکر مند ہوں، ہر کام کو سنت کے مطابق انجام دیں،

جگہ جگہ علماء کرام اصلاح معاشرہ کے لیے بیانات کر یں، ائمہ مساجد جمعہ کے بیانات میں بھی اس موضوع کو مد نطر رکھیں،

فضلاء حضرات بھی اپنے تئیں حسب استطاعت کوشش کرتے رہیں،

ٹی وی سینما کو ہٹادیں ، موبائل کا بھی غلط استعمال نہ کریں،

خلاصہ کلام یہ ہیکہ فرائض و واجبات کی ادائگی کے ساتھ، اولاد کی تعلیم وتربیت کے لیے ہرممکن کوشش کر کے اپنی ذمہ داریوں کو امانت داری کے ساتھ انجام دیں، اور دعاء کے اہتمام کے ساتھ توبہ واستغفار کرکے اللہ سے رو رو کر مانگیں، اور اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھ لیں ! دنیا ایک عارضی ٹھکانہ ہے، اصل تو آخرت کی زندگی ہے ، اور خواہشات کو تو قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے،لہذا خواہشات کی تکمیل اور لذت کے لیے گناہ نہ کریں، لذت تو ختم ہوجاءے گی، گناہ باقی رہ جاءے گا، آخرت کی ہولناکی، اللہ کے خوف، وعدہ وعید پر غور کریں، علماء سے رابطہ رکھیں انکے مشورے سے کام کریں، آخرت کی فکر کریں، اللہ کی رسی کو مضبوطی سی تھامے رکھیں، اپنے وقات کو لایعنی میں مشغول ہونے سے بچاءیں، پیش آمدہ مسائل و حالات کو تنبیہات خداوندی سمجھیں، لیکن دفاع کی تمام تر کوششوں کو انجام دیتے رہیں،

اور میرا مسلم بچیوں کے لیے یہ پیغام ہی کہ خدارا آپ لوگ محتاط رہیں مضبوطی سے اسلامی تعلیمات پر جمے رہیں، ورنہ آپکے پھسلنے کی وجہ سے صرف آپ ہی نہیں بلکہ آپکا اثر نسل در نسل تک پہنچے گا، آپکے ہاتھ میں خاندان سے لے کر نسلوں تک کی عزت و ذلت ہے ، خدا کے واسطے اسکو ضائع نہ ہونے دیں نہ خود رسوائ مول لیں ، اور نہ انکو رسوا کریں ،

اور مسلم بچوں کے لیے یہ پیغام ہیکہ وہ ہر مسلمان لڑکی کو اپنی بہن سمجھے اور جسے وہ شہوت کی نظر سے دیکھ رہا ہے اس جگہ اگر اسکی بہن ہوتی تو کیا دل پہ گزرتا اسکا خیال لا کر اللہ کا استحضار رکھیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے وہ دل کے تمام رازوں سے واقف ہے، اور وہ بھی پاکدامنی کے ساتھ شریعتکے ساءے میں زندگی گزاریں،

اور امت مسلمہ سے گذارش ہیکہ مایوس نہ ہوں، ہمت وحوصلہ سے کام لیں، فکر مندی اور ہوشمندی کے ساتھ حکمت عملی اختیار کریں، ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہ بیٹھے رہیں، ہر ایک کے غم و پریشانی رنج و الم کو اپنا غم اور اپنی پریشانی سمجھ کر اپنے تئیں کوشش کر تے رہیں، روزانہ کچھ وقت نکال کر اپنا اور قوم کامحاسبہ کر کے جائزہ لے کر سوچیں کہ ہمیں اس وقت کیا کرنا چاہیے،اللہ سے دعاء کریں،اللہ تعالی کی مدد آپکے ساتھ ہے،اللہ تبارک وتعالی کے فرمان کا مفہوم یہ ہے: تم ہی سر بلند رہوگے بشر طے کہ تم سچے پکے مؤمن بن جاؤ !!!

انشاء اللہ میری تحریر آپ کے لیے مشعل راہ ثابت ہوگی!!!!

(بصیرت فیچرس)



ہوم