سوتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش

نئی اشاعت

جمعہ، 26 اکتوبر، 2018

خدا را اس طبقے کی بھی کوئی فکر کرے

خدا را اس طبقے کی بھی کوئی فکر کرے۔۔۔!

مفتی محمد حذیفہ قاسمی
(صدرجمعیۃ علما ضلع تھانہ )

اس وقت ہم اور آپ جس نازک ترین دور سے گزر رہے ہیں اور جس طرح کی خبریں صبح سویرے ہماری نگاہوں سے گزر کر دلوںکے نہاں خانوںکو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں اور کچھ دیر کے لئے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان ناخوشگوار واقعات کے نمودار ہونے میں کہیں ہماری غفلت اور امت مسلمہ کے ایک بڑے طبقے سےہماری بیجا دوری کا دخل تو نہیں ہے۔ امت کا جو طبقہ مدارس ومساجد اور دینی تنظیموں وتحریکوں سے دور بلکہ کسی حد تک متنفر نظر آرہاہے، وہ اسکولوں ،کالجوں، یونیورسٹیوں اور بازاروں میں موجود ہے۔جنکی تعداد تقریبا 90 فی صد ہے ،جہاں تک ہمارے پہونچنے یا انکے ہم تک پہونچنے کے سارے دروازے تقریباً مسدود نظر آرہے ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ ہم اس قسم کے واقعات کو سنکر اولین مرحلے میں ہی ان پر بد دینی اور ارتداد کے فتوے صادر کر کے گفتگو کے تمام دروازے بند کر کے اپنی منصبی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔۔
جبکہ صورت حال یہ ہے کہ اس قسم کے واقعات میں ملوث زیادہ تر افراد وہ ہیں جو دین ومذہب سے بیزار آزادانہ زنگی گزارنا پسند کرتے ہیں ، وہ دنیا کے کسی بھی بندھن یا مذہبی پابندی کو کسی بھی قیمت پر برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں، انکو کسی مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔۔وہ صرف اور صرف ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔۔۔معدودے چند کے ماسوا تقریباً سارے واقعات وہی ہیں۔ جہاں آزاد پسندی اور من چاہی زندگی گزارنے کے جذبے سے سرشار افراد نے سماجی اور مذہبی بندھنوں کو نظر انداز کر کے ’لو میرج ‘یا ’محبت کی شادی ‘کا عنوان دیا ہوا ہے اور انکے اس اقدام کی راہ میں مذہب یاسماج جو بھی رکاوٹ بنا وہ پوری بے نیازی کے ساتھ اسکو نظر انداز کر تے ہوے بلکہ بسا اوقات اسکو روندتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔۔۔یہ ہے وہ صحیح صورت حال جسکو ہم نے ’فتنہ ارتداد ‘کا مذموم نام دے رکھا ہے۔۔۔ اللہ ہماری اس کوتاہی اور حقیقت سے چشم پوشی کے جرم کو معاف کر ے۔۔ کیا ملت کے اس بڑے طبقے کی فکر ہماری ذمہ داری کاحصہ نہیں تھا؟ اور دیندار طبقے سے انکی دوری میں ہماری کوتاہی اور منصبی ذمہ داری سے پہلو تہی کا دخل نہیں ہے؟ کیا انکی بد دینی کا حوالہ عند اللہ جواب دہی کے لیئے کافی ہوگا؟ اگر نھیں ، تو پھر ہمیں اسکے لیئے کیا کرنا ہوگا؟ اسکا صحیح اور تشفی بخش جواب تو ہمارے اکابر ہی دینگے۔۔۔لیکن اس حقیر اور ناچیز کے ذہن میں جو بات آرہی ہے وہ یہ کہ ’اس وقت دینی حلقوں سے متنفر افراد کے درمیان تک جائے بغیر اور ان سے پیار ومحبت سے گفتگو کئے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔۔ ورنہ ایک بہت بڑا طبقہ ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا اور ہماری وعیدوں. وفتوؤں سے انکی صحت پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے‘۔
یہ وہی نازک گھڑی اور نازک مقام ہے ۔۔جسکا سابقہ سلطان العارفین قدوة السالکین امام الاتقياء حضرت مولانا قاری سید صدیق احمد صاحب باندوی نور اللہ مرقدہ کو پڑا تھا اور آپ نے اپنے علاقے کے مرتدین کو بد دین ومرتد کہہ کر جان نھیں چھڑا لی تھی۔۔۔ بلکہ انکے دین وایمان کی فکر آپ نے اس طرح کی کہ نہ رات کو رات سمجھا ، نہ دن کو دن اور دین سے بیزار سسکتی وبلکتی ہوئ انسانیت کی ایس بے مثال خدمت کی کہ جو لوگ ارتداد کے شکار ہوئے تھے وہ تو الحمد للہ حلقہ بگوش اسلام ہو ئے ہی، اسکے ساتھ ساتھ ضلع باندہ جیسا بنجر اور پچھڑاہواعلاقہ دین وایمان کے خدام کاایک مضبوط مرکز بن گیا۔۔۔اور وہ فرقہ پرست طاقتیں جو درپردہ اس فتنے کو ہوا دے رہی تھیں ۔۔۔ حضرت نے اس طبقے سے بھی اتنے اچھے مراسم بنائے اور ان پر حسن سلوک واحسانات کی ایسی بارش کی کہ وہ حضرت کے ایسے گرویدہ ہوے کہ آپکو ’بھگوان ‘کا درجہ دینے لگے۔۔۔میری اس تعبیر پر شاید بعض حضرات کو تامل ہو، لیکن جن حضرات کا وہاں جانا ہوا ہے اور انہوںنے اپنی آنکھوں سے بڑے بڑےغیر مسلموں کو حضرت کے پیر چھوتے دیکھا ہے وہ میری اس بات سے مکمل اتفاق کریں گے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دین سے بیزار اس طبقے کو اپنے سے اور اپنے آپ کو ان سے قریب کرنے کے طریقوں پر پوری سنجیدگی اور ایمانداری کے ساتھ غور کریں اور اللہ کے حضور سچی پکی توبہ کر تے ہوئے اس سسکتی اور بلکتی ہوئی انسانیت کی خدمت کو بھی اپنی دینی ذمہ داری کا حصہ قرار دیں ، تو انشاءاللہ حالات ضرور بالضرور بدلیں گے اور بہت ممکن ہے کہ اس شر میں بھی خیر کا پہلو نمودار ہو جائے۔ اور پروردگار اس خطے کو اپنے دین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے جیساکہ اس سےقبل تاتاریوں کے تائب ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہونے کی تاریخ اسپر شاہد ہے ۔وما ذالک علی اللہ بعزیز
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
(بی این ایس)



ہوم