حیا سر پیٹتی ہیں، عصمتیں ماتم کرتی ہیں
شھاب مرزا
کبھی ائے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
26 ستمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)
موجودہ معاشرے میں مسلم لڑکے لڑکیاں میں جس طرح سے غیر مسلم کے ساتھ بیاہ کرنے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔ اس پر اگر انفرادی وزمینی سطح پر غور و خوص کیا جائے تو اس کے نتائج اتنے مہلک ہوں گے جس کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے شہر میں اس طرح کے سینکڑوں معاملے پیش آئے ہیں۔ کئی مسلم لڑکیاں اپنے والدین سے بغاوت کرتے ہوئے اور شہر میں جاری اسلامی معاشرے کی تحریکات کو جوتوں کی نوک پر رکھتے ہوئے اپنے غیر مسلم عاشقوں کے ساتھ شادیاں رچا رہی ہیں۔ ہر چند کہ یہ اسلامی معاشرہ تحریکوں دینی درسگاہوں علماء و مفتیوں اورملی وسیاسی قائدین کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ جمہوری نظام سے لا علم اور دین اسلام سے لا علم قائدین ملت کے کانوں پر اسلئے جوں تک نہیں رینگتی کہ
سلطانی بھی مکاری، درویشی بھی عیاری
خدارا تیرے سادہ لوح بندے کدھر جائے
یہ واقعات ہماری غیرت کا جنازہ نکالنے کے لئے کافی ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہیں کہ لڑکیاں غلط ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لڑکے غلط ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ قوم کی نکیل مغرب زدہ ہوگئی ہیں اور والدین بھی اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ لڑکی کی دوستی، عشق اور شادی ہوئے تک وہ اس پورے معاملے سے لا علم رہتے ہیں۔ پہلے ایسا ہونے پرعزت کی نیلامی ہوتی تھی۔ اور چہ مئے گوئیاں سے بچنے کے لئے لوگ گھر یا علاقہ بدل لیتے تھے۔ اور سوال ہوتا تھا اس خاندان میں ایسا ہوگیا مگر اب ایسا ہوگیا ہے کہ آج کا پہلا سوال ہوتا ہے پہلے تو یہ بتائو کہ مسلم کے ساتھ گئی یا غیر مسلم لڑکے کے ساتھ؟
کچھ دنوں بعد یہ ہوگا کہ ارے چھوڑو یار بچے ہیں ان کو بھی محبت( گھنائونا پن)کرنے کا حق ہے یہ عزت کی نیلامی تو آج بھی ہے مگر اب اہل خانہ کو معلوم ہے کہ انھوں نے خود آزادی دی ہے۔ خود ہی مخلوط تعلیم پر لگایا ہے
اور مانا کہ مخلوط تعلیم پر لگایا مگر اپنے بچوں کو اس قدر کھلی چھوٹ دیدی بے جا آزادی زمانے کے حساب سے مہنگا اور پسند کا موبائل مہیا کروایا۔ اور بھی موبائل کو چیک کرنے کی زحمت تک نہیں کی۔ کہ وہ موبائل کا صحیح استعمال کررہے ہیں یا غلط کہی بھی اکیلے جانے کی آزادی دیدی گئی پھر وہ کس سے ملئے اور کس کے ساتھ وقت گزارے اس سے کوئی سروکار نہیں !
افسوس ! ہمارے پاس عزت کی پاسداری نام کا کوئی جملہ ہی نہیں بچا غرض کہ مسلم نوجوانوں کا خون کھولا دینے والے واقعات روز مرہ پیش آرہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات یہ نہیں کہ مسلم نوجوان لڑکیاں دین اسلام سے اس قدر غافل ہوجائے کہ عشق کا سحر ان کی غیرت ایمانی کو جلاکر خاکستر کردے بلکہ اس کی ایک وجہ مال حرام سے اپنی اولاد کو پال پوس کر بڑا کرنا بھی ہیں۔اس طرح کے واقعات پر روک لگانا اور ان کی اصلاح کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اپنے ارد گرد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے اپنے گھر سے شروع کیجئے۔ جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا جائے۔ اسلامی تعلیمات کو فروغ دی جائے۔ اتداد جیسے قبیح عمل کی قباحت پر توجہ مبذول کروائے ہم سب کو انفرادی طور پر اس پر محنت کرنا ہوگی۔ کوئی تنظیم یا ادارہ بس ہمیں لانحہ عمل دے سکتا ہے مگر کام بہر صورت ہمیں ہی کرنا ہوگا اور خاص طور پر نوجوان طبقے کو اس میں آگے آنا ہوگا۔ ہم نے موبائل دیا ہے تو اس کی جانچ بھی ہمیں کرنی ہوگی لڑکیاں کہاں جارہی ہیں۔ کس سے بات کررہی ہیں ؟
کونسی سہیلی کے گھر دعوت ہے؟
کالجس اور کلاس میں اس کی کس سے دوستی ہے؟
یہی غفلت بعد میں ماتم کرنے پر مجبور کرتا ہیں۔ اگر اب بھی امت ان مسائل پر توجہ نہیں دے گی تو آنے والے وقت میں یہ مسائل ہر گھر میں داخل ہوجائے گا۔ اور اس موضوع پر علمائے اکرام اورمفتی حضرات ہی صحیح رہنمائی کرسکتے ہیں۔
