سوتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش

نئی اشاعت

جمعرات، 18 اکتوبر، 2018

وشوہندو پریشد کا خطرناک بیان

وشوہندو پریشد کا خطرناک بیان
حکیم سراج الدین ہاشمی
25 ستمبر(سیدھی بات نیوز سروس/ زرائع)
وشو ہندو پریشد کے لیڈران و کارکنان بڑے فخر سے یہ اعلان کررہے ہیں کہ ہندو لڑکے مسلم لڑکیوں سے شادی کریں اور ان کو ہندو بنائیں، ہندو لڑکیاں اپنے مذہب پر قائم رہیں، مذہبی کتابیں پڑھیں، گیتا پڑھیں اور پوجا کی پابند رہیں، اس طرح وشو ہندو پریشد جو بی جے پی اور آر ایس ایس کے نظریات کی حامی جماعت ہے اور مہاراشٹر میں بی جے پی حکومت کو سپورٹ کررہی ہے وہ ہندوستان میں ایسا مذہبی رنگ پھیلا رہے ہیں کہ جس سے ملک کی پوری آبادی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی، وشو ہندو پریشد کے لیڈران غیر مسلم لڑکوں کو اس طرح کی ترغیب دے رہے ہیں جس سے ہندوستان میں صرف فرقہ پرستی کا رنگ چھایا ہوا نظر آئے گا کیونکہ جب کالج میں اور دیگر جگہوں پر ہندو لڑکے مسلم لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کا عمل انجام دیں گے تو کالج اور ان جگہوں پر ماحول خراب ہونا فطری بات ہے، ایسی صورت میں ماحول زیادہ خراب ہوگا کہ ان کو ایک سیاسی جماعت درپردہ صورت میں نہیں اعلانیہ صورت میں مدد دیتی ہوئی ہوگی، ایسی صورت میں ان کے دل و دماغ میں یہ تمام مذکورہ باتیں صحیح محسوس ہوں گی اور فرقہ وارانہ فسادات ہونے کا بھی خدشہ رہے گا اور تعلیمی نظام بھی خراب ہوگا جس کا شکار مسلم طالب علم ہوتے رہیں گے۔
اگر ۲۰۱۹ء میں لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کامیاب ہوجاتی ہے اور کچھ سیٹیں وشو ہندو پریشد بھی حاصل کر لیتی ہے تو بی جے پی اپنے ساتھ مذکورہ بالا پروگرام کو عملی صورت میں عمل کرانے کے لیے ضرور لے گی۔ وہ الگ بات ہے کہ وہ کس صورت میں اپنے ساتھ لے گی۔ اب تک جو نہیں ہوا ہے وہ ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد ہوگا کیونکہ جتنے زیادہ ریپ کیس اس بی جے پی کے دور حکومت میں ہوئے کسی سیاسی جماعت کے دور حکومت میں نہیں ہوئے یعنی سماجی گندگی کی انتہا ان ریپ کیس کی صورت میں نظر آئے گی اور اب بھی نظر آرہی ہے، جب ہندو لڑکے مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے پر آمادہ ہوں گے اور مسلم لڑکیوں کی مرضی نہ ہونے کی صورت میں یہ ہندو لڑکے یہ ہی مذکورہ عمل کریں گے یعنی بی جے پی اور وشو ہندو پریشد ایک تیر سے کئی نشانے ماررہی ہے کہ ہندو آبادی میں اضافہ ہوگا جنسی استحصال ہوگا جو مسلم لڑکیوں کے ساتھ ہوگا اور یہ سب فرقہ وارانہ بنیاد پر مبنی ہوگا اور اس طرح فرقہ وارانہ فسادات اور قتل عام ہوتا رہے گا یہ جماعتیں ہندوستان کو اسی آگ میں جھونکنا چاہتی ہیں یہ ہندوستان میں کیس بھی طرح سے امن قائم نہیں ہونے دیں گے۔



ہوم