سوتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش

نئی اشاعت

اتوار، 14 اکتوبر، 2018

محبت کے جھانسے اور مسلم بیٹیاں ارتدادی طوفان کی زد میں

محبت کے جھانسے اور مسلم بیٹیاں ارتدادی طوفان کی زد میں 

بحث ایک نئے زاویے سے

سيد احمد

فحاشیت ناجائز تعلقات یا پھر پسند کی شادی کے لیے کوئی بڑا قدم اٹھا لینا، یہ الگ موضوع بحث ہے, جبکہ ارتداد کا شکار ہو کر محبت کے نام پر غیر مسلمین سے شادی یہ بالکل الگ مسئلہ اور موضوع ہے.
دونوں کے اسباب و وجوہات، نتائج و کیفیت ہر چیز بالکل جدا ہیں.
ایک مسلمان بد عملی کی کنہی انتہاؤں پر پہنچ جائے مگر اسکے دل میں فی الواقع اگر ایمان ہے تو وہ ارتداد اور کفر کے تصور سے بھی لرز اٹھے گا, لیکن آخر کیوں ہماری بہنیں اور بیٹیاں اس کثرت کے ساتھ ارتدادی آندھی کی لپیٹ میں آرہی ہیں؟؟؟
جذباتیت سے اوپر اٹھ کر اس پر تکنیکی اعتبار سے بحث ضروری ہے.
محض فحاشیت اور عریانیت کو اسکی اساسی وجہ قرار دے دینا حقائق سے منھ موڑنے کے سوا کچھ نہیں ہے.
میں ذاتی طور پر جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ فی زماننا مسلم معاشرہ اعتقادی طور پر اسلام کی حقیقی روح سے ناواقف اور اسکی انفرادیت و حقانیت سے بالکل نا آشنا ہے، اور عملی زندگی میں تو ہمارا سماج  خصوصاً معاشرت و معاملات کے میدان میں موجودہ حالت کے ساتھ کوئی بھی امتیازی تاثیر چھوڑنے کی حالت میں ہے ہی نہیں.

آئیے اس اجمال کو ذرا تفصیل سے سمجھتے ہیں.
مذہب اسلام کے حوالے سے اولا مندرجۂ ذیل دو اہم ترین مقدمات پڑھیے دماغ میں جنکا رسوخ اور دل سے جن پر یقین بالکل ناگزیر اور فرض ہے اور جن کے حوالے سے شبہات ایک مسلمان کے ایمان کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں.

(١) اسلام ہی دنیا کا واحد ،سچا اور حتمی دین ہے وہی انسان کی دنیوی و اخروی نجاح و فلاح کا ضامن ہے اسکے علاوہ سارے ادیان و مذاھب باطل اور دنیوی و اخروی خسران کا سبب ہیں.

(٢) اسلامی تعلیمات و احکامات ہرشعبہ پر حاوی اور انسانیت کو پیش آمدہ تمام مسائل کی جزئیات و کلیات  کو شامل ہیں, اور ہر شعبے میں شریعت نے جو قوانین وضع کردیے ہیں خواہ وہ کلی اصول ہوں یا جزوی احکام وہی فطرت انسانی کے سب سے زیادہ قریب ، بنی نوع انسانیت کے لیے سب سے زیادہ مفید اور طبائع بشریہ پر سب سے زیادہ سہل ہیں.
جب یہ دو باتیں کسی انسان کے معتقدات میں شامل ہوجائیں گی اور اس کے دماغ کے خلیوں میں پوری طرح سرایت کرجائیں گی تو وہ عملی زندگی میں کتنا ہی بد دین اور اسلام سے دور ہو مگر اعتقادی طور پر اسکا ایمان غیر متزلزل اور نہایت مظبوط ہوگا، نیز اس صورت میں انسان نفسانی خواہشات کا شکار ہوکر بھلے شرعی احکامات کو پس پشت ڈال دے مگر ذہنی مرعوبیت اور فکری غلامی کے سبب کبھی اسلامی تعلیمات کو نظر انداز نہیں کرسکتا.
لیکن شومئی قسمت کہ لبرلزم کی اثراندازی کے سبب مسلمانوں کی  ایک بڑی اکثریت ان دونوں مقدمات سے ناواقفیت یا ان پر سے عدم اعتماد کا شکار ہے, جسکی وجہ سے وہ اسلام اور دیگر مذاہب باطلہ کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھتے. 
اسکی ایک اہم وجہ یہ ہیکہ عموماً ہم نے اس طرح کے موضوعات کو ہاتھ لگانا اور شعوری انداز میں اسلام کی بنیادی تعلیمات لوگوں تک پہنچانا اور اسلام کی آفاقیت و ہمہ گیریت، اسکی تعلیمات کی اسہلیت و افادیت، اسکے احکامات کی حکمتیں اور فطرت انسانی سے اسکی کمال مطابقت, کوبیان کرنا عوام کے ذہنوں میں اتارنا ، معاشرے کے ہرفرد کو سمجھانا بالکل ترک کردیا ہے، اور یہی وہ کمالات اور پرکشش اوصاف  ہیں جنکی  وجہ سے اسلام کو دیگر مذاہب پر دنیوی و اخروی ہردو اعتبار سے واضح فوقیت حاصل ہے مگر آج عوام تو دور طبقۂ خواص کے بہتیرے افراد بھی اس سے نا آشنائی اور عدم توجہی کا شکار ہیں. 
اور اس پر مستزاد بہت سے لوگوں کے یہ مضحکہ خیز بیانات کہ 
"تمام مذاہب کی منزل ایک ہے بس راستے الگ الگ ہیں" 
"مختلف مذاہب کی مثال مختلف قسم کے پھولوں کی ہے ، ہر ایک سے چمن کی خوبصورتی برقرار رہتی ہے"
وغیرہ وغیرہ........
ظاہر ہے کہ یہ انتہائی خطرناک اور *ان الدین عند الله الاسلام الخ* جیسے شریعت کے اساسی احکامات پر چوٹ پہنچانے والے منگھڑت مفروضے ہیں.
جبکہ سادہ دل عوام کے دلوں پر اس طرح کے بیانات سے جو بھیانک اثر پڑتا ہے وہ بھی محتاج بیان نہیں ہے.
نیز بعض حلقوں کی جانب سے جمھوریت کی مبالغہ آمیز تعریفوں اور اہل ایمان کے حق میں اسکو نعمت گرداننے کی ریت نے بھی عامّۃالمسلمین کے افکار پر مہلک اثرات مرتب کیے ہیں, اس صدائے بے ہنگام سے اسلام کے اعلیٰ و ارفع دستور حیات اور اسکی ہمہ گیریت و افادیت کے متعلق عوام کا رہا سہا ربط بھی زد میں آگیا.
مزید برآں یہ کہ اسلام کا نظام نکاح اور شرعی ازدواجی اصول جو ہمارے معاشرتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور جو آزادیوں اور حدبندیوں کا ایسا حسین سنگم ہے کہ بیک نظر جس سے دنیا کا ہر انصاف پسند متاثر ہوکر اسکی خوبیوں کا اسیر بن جاتا ہے ہم نے عملی زندگی کے اندر اسکے چہرے کو مکمل مسخ کردیا، اسکی جاذبیت کو روند ڈالا اسکی کشش کو مسل کر نہایت بد صورت بنا ڈالا اور ہندوانیت زدہ سماج کی زہریلی آلودگی سے اسکو اس قدر بےجان اور روکھی شکل دے ڈالی کہ غیر مسلمین اور لبرل صفت بد دین مسلمانوں کو تو چھوڑیے اچھے بھلے دیندار گھرانوں کے لیے بھی اس میں کوئی کشش باقی نہیں رہ گئ.

خلاصہ یہ کہ ہماری عوام کا ایک بڑا طبقہ نا تو اسلام کی جامعیت اور ہمہ گیر خوبصورتی سے واقف ہے اور ناہی اسلام اور دیگر ادیان باطلہ کے درمیان کوئی خاص فرق کرتا ہے اور ہم نے عملی و قولی ہردو  میدان میں ہندوانیت سے حددرجہ متاثر ہوکر اپنوں اور غیروں دونوں کو اسلام کی انفرادیت سے عدم واقفیت کا شکار رہنے  میں اہم رول ادا کیا.
*#نتیجہ یہ کہ لبرلزم  سے متاثر* ایک بڑے طبقے کی نظر میں اسلام ایک عام سا مذہب بن کر رہ گیا ہے اسی وجہ سے کسی جینی یا بدھسٹ کے ہندو ازم قبول کرنا جیسے چنداں باعثِ تعجب نہیں اسی طرح مسلمانوں کے مذکورہ بالا طبقے کا کسی مفاد کے پیش نظر ارتداد کی راہ اختیار کرنا بھی افسوس ناک ضرور ہونا چاہیے مگر حیرتناک نہیں. 
لہٰذا
پہلی فرصت میں ضروری ہے کہ بیانات اور اصلاحی جلسوں میں عوام کے سامنے مذکورہ بالا نکات کی شعوری انداز میں تفہیم کی جائے, اور ساتھ میں اسلام کے نظام نکاح کے ساتھ کھلواڑ کو بند کرکے اسکی پرکشش فطری اور سچی تصویر کو سامنے لایا جائے.
اللہ ہم سب کو دین کی درست فہم عنایت فرمائے آمین.


ہوم