ارتداد سے حفاظت کے لیے کچھ فوری اورآسان کام
از: احقر شاہد معین قاسمی
حامداً ومصلیا،امابعد
چند دنوں سے ارتداد کے تعلق سے علمائے کرام -دامت برکاتہم جمیعاً-کی فکر وسوچ کو پڑھنے کی توفیق تو مل رہی تھی ؛لیکن کچھ عرض کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوپارہی تھی ، شیطان ونفس کے دھوکے میں پڑا تھا ،بظاہر کچھ مصروفیات ہیں ۔آج توفیق ِ باری سے چند مخلصانہ وعاجزانہ تجاویز پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہاہوں ؛جواحقر کے نزدیک آسان اور مؤثر معلوم ہوتی ہیں:
یہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی بھی مسئلے میں ہماری ذمےداری: اِخلاص وحکمت اور خود اعتمادی کے ساتھ اپنی بساط بھر کوشش ہے؛ نتیجہ: خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ آپس میں نہ تو ایک دوسرے کو طعن وتشنیع کریں اور نہ غیر ضروری بحثہ ومباحثے یا اعتراضات وجوابات پر وقت صرف کریں؛ چوں کہ اس سے اصل مقصد ذہن ودماغ سے نکل جاتااور شیطان اپنے حربے میں کامیاب ہوجاتاہے ۔
رِیگولر کی بجائے پرائیوٹ کورس:
مسئلے ہذا کی بابت ، باری تعالی نے جنھیں بھی ممبر و محراب یا میڈا کی دولت سے سے نوازاہے ان سے احقر کی عاجزانہ درخواست ہے کہ وہ اپنی زبان وقلم سے” والدین “کو درجہ ذیل جیسی باتیں بتائیں :
خاص کر اپنی پیاری بچیوں کو کالجوں میں ریگولر بھیجنے کی بجائے ؛انھیں کروس بونڈیڈ کورسیز کرائیں کہ کسی کالج کے کسی مناسب کورس میں نام لکھواکر تیاری اور مطالعہ گھر کر ائیں اور امتحان کے دنوں خود لیجاکر امتحان دلوادیں ۔خدا کہ شکر ہے کہ اکثر کورس ایسے ہیں جنھیں گھر بیٹھے کرسکتے ہیں؛اہمیت کا جو تھوڑاسافرق پڑتاہے :ہمیں اس کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔
اکل کنواں اور علی گڑھ:
اگر کچھ ایسے کورسیز ہیں ؛جن میں ریگولر حاضری ضروری ہے ،جیسے شائید ڈاکٹڑی ،تو ایسے میں ،مسلمانوں کے جو گنے چُنے محفوظ ادارے ہیں ،جیسے اکل کنواں اور علی گھڑ وہ غیرہ: ہم اپنی بچیوں کو وہاں ڈالیں،ڈاکٹر عبد القدیر صاحب نے بھی مہاراشٹر بدر میں اچھا نظام قائم کیا ہے جہاں کم پیسے میں اچھی تربیت وتعلیم ہوری ہے اور علحدہ علحدہ ہوسٹلوں میں بچے اور بچیوں کو ڈاکٹری اور انجنیرنگ کی تیاری کرائی جارہی ہے ۔
بچیوں کی تعلیم کا مقصد اور بہتر کورس:
بچیوں کو پڑھانے کا بنیادی مقصد ان کے ذریعے معاشرے کی تعمیرہونا چاہیے نہ کہ کچھ اور ۔ورنہ اگر شادی بیاہ میں آسانی مقصد ہوتو ،پھر ایساہی ماحول بنے گا کہ ہمیں اپنے بچوں کی خدانہ خواستہ شادی کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی!!! وہ خود سے شادی کے ذریعے ساری بربادی کرلیں گی ؛جن کے شرمنا ک نتایج ہمیں دیکھنے پڑھ رہے ہیں!۔ہماری پیاری اور پاکیزہ بچیوں کے لیے یا تو ہمیں ،”ڈاکٹری” کا انتخاب کرنا چاہیے ،”ٹیچینگ” یا “سی ائے” کا ۔احقر کے لحاظ سے دوسرے کورسیز نہیں کرانے چاہیں۔
اگر کالج بھیجناہی پڑے :
اگر کالج بھیجنا ہی پڑ جائے ،تو اپنی صلاحیت اور پیسوں کے لحاظ سے الگ الگ جگہوں پر اپنی بچیوں کا داخلہ نہ کراکر ،کم ازکم ہم ایک محلے کے لوگ آپس میں مشورہ کریں ، ایک دوسرے کا مالی تعاون کریں اور اپنے محلے کی تمام بچیوں یا کئی بچیوں کا قریب کے ہی کسی ایک ہی کالج میں داخلہ کرائیں اور پھر آپس میں باری طے کرکے کوئی نہ کوئی ان تمام کو چھوڑنے اور لینے جائے۔چھوڑے ایسے وقت میں کہ کلاس بس شروع ہی ہوئی ہو اور لینے کلاس کے ختم ہونے سے دس منٹ پہلے پہنچ جائیں ۔(کالج کا ٹائم ٹیبل خود ہی معلوم کرتے رہا کریں،ہر کالج کا فون نمبر ہوتاہے اور پروفیسرز صاحبان کے بھی فون نمبرز ہوتے ہیں،ان سے لیکر کلاس اور کالج کی ٹائمنگ معلوم کی جاسکتی ہے،ان سے اپنی بچیوں پر خصوصی نگرانی کی درخواست بھی کی جاسکتی ہیں۔ اس سے ان کا حوصلہ بلند ہوتاہے اور وہ اپنا دست تعاون دراز کرتے ہیں۔
اچانک نگرانی :
اور پورے گروپ میں سے کوئی نہ کوئی گھر کا ذمہ دار ،درمیان میں بھی پہنچا جائے اور خاص طور سے بیچ کے وقفے کے اوقات میں ۔
بطورِخاص” بچیوں” کو موبائیل ہرگز نہ دیں ۔ ڈاکٹری کی پریکٹس کے لیے بھی بچیوں کو نہ دور بھیجیں اور نہ نائٹ ڈیوٹی پر ،بل کہ قریب کی جگہ رکھوائیں ،انھیں لے جانے اور لانے کا اھتمام کام کریں اور بیچ میں بھی اچانک پہنچ جائیں ۔ بچیوں یا بڑے بچوں کو ایسے ماحول میں بے نگرانی بھیجنا :اللہ کو ناراض کرنےوالا عمل ہے ؛جو دنیا و آخرت دونوں کو تباہ کرتاہے ۔
موبائیل کا متبادل:
بچے اسٹڈی اور پروجیکٹ کے نام پر موبائیل مانگتے ہیں اور پھر اس کے غلط استعمال میں پھنس جاتے ہیں ،پروجیکٹ کے لیے انھیں کمپیوٹر دیا جائے ؛جس کا مونیٹر بڑے سائز کا ہو،کامن روم میں ہی ان کے لیے کرسی اور ٹیبل کاا نتظام کیا جائے ،پھر ان کے پیچھے کی دیوار کی طرح بڑے شیشے کو لگادیا جائے ،تو شیطان ان کے پاس اتنی آسانی سے نہیں آپائے گا؛باری تعالی نے فطری طور پر ماں باپ ،دوسرے افرادِخانہ کے سامنے یاکھلے عام گناہ نہ کرنے کی جو صلاحیت انسان میں ودیعت کی ہے :وہ غالب رہی گی ۔
عشاء بعد جلدی سونے کا ماحول:
گھر کا ماحول کا کچھ اسطرح ہو کہ ہم رسول ؑ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے رات کوجلدی سونے کا نظام بنائیں ؛ گھر وں میں مائیں اور بچیاں مل کر عصر بعد ہی کھانہ بنالیں اور مغر ب بعد سب ساتھ ملکر فوراکھانا کھالیں ۔ عشاء بعد سارے گھر کے افراد سوجائیں اور سب مل کر یہ طے کرلیں کہ گھر کے سارے موبائل ہاتھوں سے الگ کسی محفوظ جگہ پر رکھدیے جائیں ۔ماں باپ اور بڑے بھائی سب اپنے موبائیل اسی جگہ رکھدیں اور ایک موبائیل کے علاوہ (جس کا نمبر تمام رشتہ داروں کے پاس ہو ) سارے موبائیل بند کرکے رکھدیے جائیں ۔اس کے بہت سے فائدے ہیں ؛جس کے بیان کایہ موقع نہیں ہے۔
مغرب سے پہلے کاموں سے فارغ ہوجائیں !
کمپنیوں اور اپنے کاروباروں کو چلانے والے بھی ،یہی معمول بنائیں کہ ہمیں اپنے سارے کام مغرب سے پہلے نمٹاکر مغرب بعد گھر پر ہی رہنا ہے ،کھانے سے فارغ ہو کر بچوں نے دن میں کیا پڑھا ان کا جائزہ لینا ہے ؛چاہے کتابوں کا سبق اور سبجیکٹ خود سمجھ میں آئے یا نہیں؛ گھر پہ سنانے کے تصور سے سبق کو صحیح سننے کا خیال پیدا ہوگا؛پھر بچوں کو مطالعے میں لگانا ہے اور ہمیں قرآن کی تلاوت کرنی ہے، پانچ منٹ کے لیے ایمان وعمل کو مضبوط کرنے والی کسی بھی کتاب کی اجتماعی تعلیم کرنی ہے ،عشا بعد جلدہی سوجاناہے اور فجر باجماعت پڑھ کر بچوں کو اسکول چھوڑ نے اورغسل وناشتے کے بعد صبح سے ہی اپنے کام اور پروجیٹ میں لگ جاناہے؛ اگر دوسرے لوگ شامل نہیں ہورہے ہیں، تو اپنے پروجیکٹ کے لیے پلانینگ اور جائزے کا کا م ہی کر لیا جائے ۔اگر ہم چھوٹے کارو باری ہیں: توبھی یہ آسان ہے ؛کیوں کام کا دباؤ ہی نہیں اور بڑے درجے کے ہیں ،تو کام ہمارے ہاتھ میں ہے :ہم اپنے لحاظ سے کام شروع کریں گے اور اپنے لحاظ سے ہی متعینہ وقت پر بند کریں گے ۔
جوڑ میں برکت ہے :
کام میں” برکت “کے لیے کم ازکم جزوی جوڑ ضروری ہے ،میں اپنے معزز علمائے کرام اور ائمئہ عظام سے انتہائی ادب سے درخواست کروں گا کہ اپنے ٹرسٹی حضرات اور محلے کے دیگر لوگوں سے مشورہ کرکے کالج اور اسکول کے آٹھویں سے آگے تک کے بچوں کے لیے الگ سے خصوصی بیان رکھیں ؛جن میں ایمان وعقائدکی اہمیت ،شرم وحیا ء کی قیمت اور ماں باپ ،اساتذہ اور مذہب وملت سے اوپر اٹھ کر معاشرے کے تمام بڑوں کے احترام کی وقعت کو ہی خصوصیت سے بیان فرمائیں ؛ جمعہ میں نہ اس کا موقع ہے اور نہیں انھیں موقع ہے؛ چوں کہ عام طور وہ اسکول کی نذر ہوتے ہیں۔
بہتر کتابیں:
اس زمانے میں عورتوں کی تربیت کے لیے بہت سی کتابیں آگئیں ہیں ؛جو حضرات ِعلماء کی نگاہوں میں ہوں گی ؛خاص طور سے”دور صحابہ کی نامور خواتین” اور ”دورِتابعین کی نامور خواتین” دیوبند میں ملتی ہیں۔ کوئی ایسی ترتیب ہو کہ ہمارے “بزرگوں” کے طرز پر ایک ہی واقعے کو دوتین مرتبہ الگ الگ لوگ پڑھ دیں ،تو مجلس میں ایک طرح کا تنوع بھی ہوگا اور تکر ار سے باتیں بھی ذہن نشیں ہوجائیں گی ۔ اخیر یا بیچ میں بچوں کو اختیار دیا جائے کہ اگر کوئی لفظ نہ سمجھ میں آئے یا کوئی مضمون نہ سمجھ میں آئے ،تو وہ سوال کریں: یہ بھی دلچسپی کا باعث ہے ۔
احساس جگ چکاہے :
اس رمضان میں جوگیشوی اور گورے گاؤں سے مختلف ساتھیوں نے خواتین اور خاص طو ر سے بچیوں کی تعلیم شروع کرنے کی اہمیت کا مجھے شدت سے احساس دلایا ،ہم سب کو اس طرف پہل کرنی چاہیے اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوے اپنےعلاقے میں انھیں صحیح قرآن پڑھنا اور طہارت اور دیگر عبادت کے مسائل کاٹھوس علم دینے کی کوشش کرنی چاہیے ،احقر بھی ان شاء اللہ اس ماہ اس بابت کچھ نہ کچھ کرے گا۔ اور دیگر ساتھی کوشاں ہیں ۔ لیکن ابھی ترتیب نہیں بن پائی ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہماری کتنی ماؤں اور بہنوں کی نمازیں صحیح ہورہی ہیں! بس باری تعالی محض اپنے فضل سے سب آسان فرمادیں !۔
نبی ؑ کا عمل:
بخاری شریف سے یہ بات ثابت ہے کہ رسول ِ خدا نے پردے کے ساتھ عورتوں کی تعلیم کا اھتمام فرمایاتھا۔ہماری مساجد کے سارے حصے شرعی طور پر ایسے نہیں ہوتے کہ عام عورتیں ان میں داخل نہیں ہوسکتیں ،ہمیں ان حصوں کا استعمال کرکے ہفتے میں بچیوں کے لیے نصیحت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے ۔اور اگر کسی گھر میں ہوجائے تو اور اچھاہے ۔
گھروں میں بنیادی تعلیم علماء کا منصبی فریضہ :
خاص طور سے پچھلے چند ماہ سے مجھے اس ذمہ داری کا احساس ستارہاہے کہ :کیوں نہ ہم علمائے کرام اپنی بیوں میں عورتوں کے مخصوص مسائل اور بنیادی عقائد کی مہارت پیدا کرکے ،ان کے ذمے یہ کام لگادیں کہ وہ عورتوں کو یہ دونوں چیزیں سیکھائیں ؟ا ور بھلا کیوں نہ ہم ائمئہ کرام اپنی بیوں ،بیٹیوں اور بہؤں کو کم ازکم اپنی جیسی تلاوت سکھا کر ،خواتینِ کے قرآن کی تصحیح وتحسین کی ذمہ داری ان پر ڈالدیں
؟ کیوں کہ ورثۃ الانبیاء ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری اور ہمارا منصب ہے ۔ہم اپنے رب سے وعدہ کرتے ہیں کہ ان کی مشیت سے ہم یہ دونوں کام ضرور کریں گے !
عصری درسگاہوں میں جانے کی ضرورت :
پچھلے سال ایک کالج میں( جہاں ہر سال جانا ہوتاہے) دودن کے بیان کے لیے یوپی سے سفر کر کے ممبئی حاضر ی ہوئی، اسُ موقع پر کالج کے ایک پروفیسر( جو بڑے با کمال اور جماعتِ تبلیغ کے بڑے سرکر دہ ذمہ دار ہیں ) صاحب نے آہ بھر کر فرمایا : “کہ اگر اسی طرح مختلف علمائے کرام مختلف کالجوں کا رخ کریں ،تو بڑا فائدہ ہوگا”۔احقر ان شاء اللہ اسی ہفتے مختلف کالجوں کا دورہ کرکے اپنی ترتیب شروع کرے گا اور جیسی ضرورت پڑے گی دیگر حضرات ِعلمائے کرام-دامت برکاتہم اجمعین – کی خدمات وتعاون بھی حاصل کرے گا۔
فوری قدم اور فوری مشورہ:
بہتر ہے کہ گروپ کے ذمہ دار علماء فوری طورپر(خاص طور سے صدیق محترم حضرت مولانا اسلم صاحب قاسمی دامت برکاتہم) ایک مشورتی ملاقات رکھ لیں پھر اجتماعی اور انفراد ی عمل شروع کردیں ۔ مشورہ بہت سے خیر کے دروازے کھولے گا۔
اگر کسی علمی اور تحقیقی مضمون وغیرہ کی ضرورت بڑے گی، تو اپنے دوسرے باکمال ساتھیوں کے ساتھ احقر بھی اپنی حقیر کوشش پیش کرے گا اور اگر انگریزی میں کہیں کچھ کہنے اور لکھنے کی ضرورت ہوگی ،توبند ہ اس کے لیے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا ۔
دعا ایک بڑا ہتھیار:
سالِ رواں ہی ،جمعیت ِ علمائے ہند کے ایک لیڈر شپ پروگرام میں ایک چشم کشا جملہ کہا:” صاحب! ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم تو بس دعا ہی کرسکتے ہیں! تو کیا دعاکو ہم نے کوئی معمولی چیز کوسمجھ رکھاہے ؟یہ تو بہت بڑا ہتھیارہے “۔
آج سے تقریبا پندرہ سالوں پہلے حضرت مفتی راشد صاحب اعظمی دامت برکاتہم / استاذ دار العلوم دیوبند نے ششم اولی میں ہدایہ کا در س دیتے ہوئے فرمایا تھا :” اب راتوں کو رونے والے لو گ نہیں رہے ،اس لیے اتنے حالات آرہے ہیں “۔اور یہ بجاہے کہ رات کی عبادت اوراللہ سے لو لگانا :اسلامی تاریخ کے تمام نامور شخصیات کا امتیاز رہا ہے ۔میرے بڑے ہی پیارے استاذ حضرت مولانا مفتی جمال صاحب اعظمی دامت برکاتہم نے کہا:” شاہدمعین تہجد کے بغیر کوئی بڑا کام نہیں ہوتا”۔؛ اس لیے ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اجتماعی کوششوں کے ساتھی ہی انفرادی دعا ،تہجداور صلاۃ الحاجۃ کی پابند ی کے بغیر کچھ بننا مشکل ہے اور اس کا اھتمام کرنا چاہیے ۔
احقر نے انتہائی عجلت میں یہ غیر مرتب سطریں پیش کی ہیں ؛ کوئی غیر مناسب چیز تحریر ہوگئی ہو :تو اصلاح فرمائیں گے
نوازش ہوگی !
اَعانَنا اللہ جمیعا علی دمغ جمیع ماظہر من الفتن ومابطن!
