سوتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش

نئی اشاعت

اتوار، 28 اکتوبر، 2018

شادی ۔ شادی ۔ شادی

شادی ۔ شادی ۔ شادی

تکلف برطرف : سعید حمید (ممبئی اردو نیوز)
مسلم لڑکیاں ہندو لڑکوں کیساتھ شادیاں کر رہی ہیں،
یہ ایک صورتحال ہے ،
اور دوسری ؟
کئی مسلم لڑکیاں اچھے اور مناسب( مسلم ) رشتہ نہیں ملنے کے سبب بن بیاہی بیٹھی ہیں۔
تیسری صورتحال ۔
کئی ہونہار اور اسلام پسند گھرانوں کے مسلم نوجوان ، ہندو لڑکیوں ( کو مسلمان بنانے کے بعد ) ان سے شادیاں کر رہے ہیں ۔
سب سے پہلے ، تیسرے معاملہ کی بات کی جائے ،
آج کسی ہندو لڑکی کو مسلمان بنانا ،
اور پھر اس سے شادی کرنا آسان کام نہیں رہا ۔
لو جہاد کا الزام لگایا جاتا رہا ہے ،
اب تو سپریم کورٹ نے کہہ دیا ،
اور این آئی اے نے بھی تسلیم کرلیا ،
کہ لو جہاد کا صرف الزام ہی الزام ہے ۔
اس میں جہاد نہیں،
صرف لو ہی لو ہے ۔
لیکن ۔
اس کے باوجود بھی ،
ملک میں فرقہ پرستی کا بھوت اس قدر سروں پر سوار ہے ،
کہ پولس اسٹیشن سے لیکر ، مجسٹریٹ کی عدالت ( ایفی ڈیوٹ کرنے کیلئے ) ،
اوررجسٹرار آف میریج کے دفتر میں،
مسلم لڑکے کو ہندو لڑکی کے قبول اسلام سے
رجسٹرڈ شادی تک ، قدم قدم پر دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔
کئی ایسے گھرانے جن کی بیٹیاں شادی کیلئے مسلمان ہوجاتی ہیں،
وہ دولت اور اثر و رسوخ کا سہارا لیتے ہیں۔
پھر جھوٹی ایف آئی آر داخل کراوئی جاتی ہے ۔
اپنی ہی بیٹی ، اور مسلم داماد کیخلاف چوری ، اغوا کا جھوٹا کیس ۔
اصلی معاملہ ( یا جرم ) ہوتا ہے ، قبول اسلام اور شادی ۔
پھر ہوتی ہے ؛ گرفتاری،
اور پھر ’’گھر واپسی‘‘ کیلئے ناجائز دباؤ۔
آج لو جہاد تو ایک جھوٹا الزام ثابت ہوا ،
لیکن ۔
سچی بات یہ ہیکہ فرقہ پرستی کے جنون نے
کسی ہندو لڑکی اور مسلم لڑکے کی شادی ، نکاح کو جہاد جیسا ہی بنا دیا ہے ۔
اب ہندو مسلم شادیوں کا دوسرا پہلو بھی ہمارے سامنے ہے ۔
ایک طرف مسلم لڑکوں اور ہندو لڑکیوں کی ( قبول اسلام کیساتھ)
شادی جھوٹے الزامات ، یہاں تک کہ
بین الاقوامی سازش اور دہشت گردی تک سے جوڑاگیا ۔
اور اس کو مشکل سے مشکل ترین بنادیا گیا ۔
وہیں۔
دوسری طرف ہندو جنونی تنظیمیں ہیں،
جو کھلے عام زہر افشانی کر رہی ہیں۔
ہندو نوجوانوں کو بھڑکایا جا رہا ہے ۔
انہیں مسلم لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی ،
عشق کے جھوٹے جال میں پھنسا کر ہندو بنانے کی
ترغیب دی جا رہی ہے ۔
اس کیلئے انعامات اور اعزازات کا اعلان کیا جارہا ہے ۔
ان کو نشانہ دیا جارہا ہے ،
کہ ایک مہینہ اور ایک سال میں کتنی مسلم لڑکیوں کو پھنسایا جائے ،
اور ہندو بنایا جائے ۔
لیکن ۔
کیا ان ہندو جنونی تنظیموں کے خلاف کسی نے آواز اٹھائی ہے ؟
کیا ان کی کھلم کھلا سرگرمیوں پر اعتراض کیا گیا ہے ؟
حقیقت تو یہ ہیکہ ’’لو جہاد ‘‘ ایک بے بنیاد الزام ہے ،
لیکن ۔
مسلم لڑکیوں کو جھوٹے عشق کے جال میں پھنسانے ،
اور ان کو لالچ ، جھوٹے عشق یا بلیک میلنگ کے ذریعہ
دھرم پری ورتن کیلئے مجبور کرنے کی کھلم کھلا مجرمانہ سازش
قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔
مسلمان خاموش ہیں ۔
اسلئے ۔
اب جہاں مسلم لڑکوں کی ہندو لڑکیوں کیساتھ شادی مشکل بنتی
چلی جارہی ہے ،
ان انکشافات نے مسلم قائدین کو پریشان کردیا ہے ،
کہ رجسٹرارآف میریج کے دفاتر میں
مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں کیساتھ شادیوں کی نوٹسز
کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے ۔
اگر۔
اس قدر تعداد میں مسلم لڑکوں اور ہندو لڑکیوں
کی شادیوں کی نوٹسز لگائی جاتی ،
تو ملک بھر میں کیسا طوفان اٹھ کھڑا ہوچکا ہوتا ؟
یہ بتانے کی بات نہیں ہے ۔
’’لو جہاد ‘‘ کی اسٹوری پھیلانے والے
کسی ایک مولوی یا لیڈر یا تنظیم کا نام نہیں پیش کرسکے ،
جنہوں نے الزام کے مطابق ہندو لڑکیوں کو مسلم لڑکوں کے
عشق کے جال میں پھنسانے( لو جہاد )
کیلئے موٹر سائیکل اور لاکھوں روپوں
کے انعامات کی پیش کش کی تھی ۔
لیکن ۔
مسلم لڑکیوں کو جغلی ہندوتوا وادی عشق کے جال
میں پھنسانے اور انہیں ہندو بنانے کیلئے اکسانے والے
تو آن ریکارڈ ہیں۔
ایک سادھوی جی ہیں، جو اشتعال انگیزی کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔
سادھوی پراچی نے کہا ؛
’’مسلم لڑکیاں ہندو بن جائیں اور ہندو لڑکوں سے شادی کرلیں ،
کیونکہ ۔ اسلام ایک خطرناک مذہب ہے ۔
اس طرح وہ اپنے آپ کو ٹرپل طلاق اور حلالہ
سے محفوظ رکھ سکیں گی ۔ــ‘‘
اس سادھوی کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ؟
آرا یس ایس کی ایک تنظیم ہندو جن جاگرن منچ بھی میدان میںآئی ۔
اس نے وہ حرکت کی جسے میڈیا نے ’’ ریورس لو جہاد ‘‘کا نام دیا ۔
اس نے ’’ بیٹی بچاؤ۔ بہو لاؤ ‘‘ مہم شروع کی ۔
لو جہاد تو محض ایک جھوٹا الزام تھا ،
ہندو جن جاگرن منچ نے تو کھلے عام
’’ریورس لو جہاد‘‘ کی سازش شروع کردی ۔
اس تنظیم نے ’’ بیٹی بچاؤ ۔ بہو لاؤ ‘‘ مہم کے تحت
دو ہزار مسلم لڑکیوں کو ہندو گھرانوں کی
بہو بنانے کا اعلان کیا ۔
کسی ایجنسی ، پولس ، سرکار کے کان پرجوں کیوں رینگتی ؟
یہ اعلان یعنی گذشتہ سال کیا گیا تھا ،
امسال مسلم سوشیل گروپس پر کئی پوسٹ وائرل ہوئی ہیں،
جن میں مختلف شہروں کے رجسٹرار آف میریج کے دفاتر کی جانب
سے مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں کے ساتھ شادی
کی لیگل نوٹس کی کاپیاں پیش کی گئی ہیں۔
تو کیا یہ نام نہاد ’’ریورس لو جہاد ‘‘ ایک مجرمانہ سازش نہیں ہے ؟
اس کے پیچھے کس کا فائنانس کام کر رہا ہے ؟کون سی
طاقتیں سرگرم ہیں؟
کون تحقیقات کرے گا ؟
ظاہر ہے کہ قوم کو اپنے طور پر اس معاملہ سے نمٹنے کی حکمت عملی
اپنانی ہوگی ، سرکار ،میڈیا ، بیوروکریسی سے کیا امید ؟
اب ؛ دوسرا مسئلہ ۔
وہ یہ کہ کئی مسلم لڑکیاں اچھے مسلم رشتوں کی تلاش میں
والدین کے گھروں میں بیٹھی ہیں۔
خاص طور پر اعلی تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کیلئے مناسب رشتہ ملنا دشوار ہو رہا ہے ۔
جس طرح قوم نے تین طلاق کے غلط استعمال
کے مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دی ،
اور پھر اس کو اسلام دشمن طاقتوں نے ہتھیار بنا لیا ،
اسی طرح شائد قوم مناسب رشتوں کی تلاش میں والدین کے گھروں میں بیٹھی مسلم لڑکیوں کے مسئلہ پر مناسب توجہ نہیں دے رہی ہے ۔
اب رہا یہ مسئلہ۔
کہ کچھ مسلم لڑکیاں ہندو لڑکوں سے شادی کر رہی ہیں،
تو ہم اس پر بغلیں بجانے والے ہندوتوا وادیوں سے کہینگے ،
مسلم قوم میں اچھی لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں ہے ،
لیکن۔
انہیں چھوڑ کر کچھ مسلم نوجوان ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے رہے ۔
اور۔آج قوم کو یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے ،
کہ ان کی کچھ دینی بہنیں ہندوؤں سے شادی کر رہی ہیں۔
اور یہ صورتحال بھی پیدا ہو رہی ہے کہ قابل اور اچھی مسلم لڑکیاں
اچھے مسلم رشتوں کے انتظار میں گھروں میں بیٹھی ہیں۔
اگر ہم نے شادی بیاہ اور رشتہ ناطہ کو بھی
فرقہ وارانہ مقابلہ آرائی اور قوموں کی جنگ بنالیا
تو پھر یاد رکھئے ،
ملک کےہندو اور مسلمانوں میں مرد ۔عورت کا اوسط (MALE-FEMALE RATIO ) تقریباً
یکساں ہی ہے ۔
اس بے مقصد اور بے تکی مقابلہ آرائی
کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟
یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے نہ بھائی ؟
اس لئے ، بیٹی ۔ بہو کے نام سے اشتعال انگیزی کرنے والے
اور فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کیجئے ۔
(بصیرت فیچرس)



ہوم