سرجیکل اسٹرائک
(قسط 44)
آپریشن طارق فتح
یاسر ندیم الواجدی
گستاخ رسول تارکِ فتح ایک بار پھر ہندوستان بلایا گیا ہے۔ جس مقصد کے لیے اس کے سفر کو اسپانسر کیا گیا ہے، اس نے ملک میں آتے ہی اس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ مختلف چینلز پر بیٹھ کر بکواس کرنا، اسلام کے خلاف الٹے سیدھے اعتراضات کرنا اور مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرا کر شدت پسندوں کو خوش کرنا اس کا روز کا معمول ہے۔ کچھ اعتراضات تو ایسے ہوتے ہیں کہ ایک عام پڑھا لکھا انسان بھی ان کو جھنجھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیتا ہے اور کچھ اعتراضات ایسے بھی ہیں جن سے عام لوگ بہت آسانی سے کنفیوژن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سرجیکل اسٹرائک کی اس قسط میں انھی اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
ایک سال پہلے جب یہ شخص بھارت میں فکری دہشت گردی کا ارتکاب کررہا تھا اس وقت الحمد للہ آپ سبھی کے تعاون سے ایک کامیاب تحریک چلائی گئی تھی، جس کے دو رخ تھے۔ پہلا رخ ویڈیوز کے ذریعے اس کے اعتراضات کا جواب اور دوسرا رخ قانونی تھا۔ چند جگہوں پر اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی تھی لیکن نظام کے سست اور شدت پسندوں کے چست ہونے کی بنا پر اس کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوسکی۔ اس بار، اس گستاخ نے توہین عدالت کا بھی ارتکاب کیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ پریشر گروپ بناکر اس کے خلاف توہین عدالت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرائیں۔ ہم لوگ سڑکوں پر تو جلدی اترجاتے ہیں، لیکن جو کام زیادہ موثر ہوتا ہے اس میں سستی کرجاتے ہیں۔ علمی اور قانونی دونوں اعتبار سے اس کے خلاف کوشش کرنا اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایک قوم کے شدت پسند وجاہل طبقے کو یہ موقع نہیں دے سکتے کہ ایک طرف تو وہ ہمارے نوجوانوں کو ہجومی تشدد کا شکار بنائیں، تو دوسری طرف وہ اس گستاخ کی شاگردی میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر آکر اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑائیں اور سیدھے سادے مسلمانوں کو احساس کمتری میں مبتلا کریں۔