اقبال تیرے قوم کا اقبال کھو گیا
اپنے گھر کی فکر کریں قبل اس کے کہ زلت و رسوائی مقدر بن جائے۔
از : محمود حسن جمشیدپوری،
عزیزانِ ملت!
کچھ دنوں سے ملک کے کونے کونے سے یہ روح فرسا خبریں موصول ہورہی ہے کہ مسلمان لڑکیاں دین و ایمان سے ہاتھ دھو کر غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ بھاگ کر شادی کر رہی ہیں اور اپنا دین و ایمان اور ضمیر وحیا بیچ کر اپنے خاندان اور اپنے سماج اور معاشرے پر بدنامی کا داغ لگا رہی ہیں، یہ واقعات آئے دن اخبار کی سرخیوں میں نظر آرہے ہیں۔
اس طرح کے اکا دکا واقعات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن ادھر چند برسوں سے باضابطہ پلاننگ کے تحت مسلمان لڑکیوں کو جال میں پھنسایا جا رہاہے، اور آئے دن ان لڑکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے،جو بے حیائی کے راستے پر بڑھتے ہوئے ارتداد تک پہونچ رہی ہیں۔
زمانۂ جاہلیت میں حکمراں قوم کے افراد محکوم قوم کے مرد وخواتین کے ساتھ جو سلوک کرتے تھے وہ تاریخ کے صفحات میں درج ہے۔
یہاں ہم چند صورتیں بیان کرتے ہیں۔
کچھ مَردوں کو قتل کردیا جاتا تاکہ ان کے انجام کو دیکھ کر دیگر لوگ خوف زدہ رہیں۔
کچھ مردوں کو قید وبند کی صعوبتوں میں ڈال دیا جاتا تاکہ قید کی مصیبت سے گھبرا کر وہ حکمراں قوم کی ذہنی غلامی قبول کرلیں۔
کچھ مردوں کو محنت ومشقت اور مزدوری کے کاموں کے لیے زندہ رکھا جاتا تھا۔
خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی اور ان کی عزت وآبرو کو محض ایک کھلونا تصور کیا جاتا اور مختلف حیلوں بہانوں سے خواتین کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔
لیکن آج مہذب، تعلیم یافتہ اور آزاد ہندوستان میں مسلم مرد و خواتین کے خلاف شدت پسند تنظیمیں یہی ظالمانہ اور جاہلانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
فرضی انکاﺅنٹر اور گاؤ رکھشا کے نام پر مسلم نوجوانوں کو قتل کیا جارہا ہے.
جھوٹے مقدمات لکھا کر جیلوں میں قید کیا جا رہا ہے.
یا پھر : پنکچر جوڑنے، رنگ پتائی کرنے، نالیاں صاف کرنے جیسے کاموں پر مجبور کیا رہا ہے.
اور مسلم لڑکیوں کے خلاف اغوا، جبریہ ارتداد، اور "ریپ یوگ” کی مہم چلائی جارہی ہے.
کیا ہے ریپ یوگ"Rape-Yog" مہم؟
مسلم لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر ان کی عزت اور زندگی سے کھلواڑ کرنے کے لیے پچھلے کچھ وقت سے شدت پسند تنظیموں نے یہ مہم چلا رکھی ہے. اس مہم کا مقصد مسلم قوم کو ذہنی طور پر رسوا کرنا اور مسلم لڑکیوں کو زبردستی مرتد بنانا ہے. اس مہم کے تحت کالج و یونی ورسٹی جانے والی لڑکیوں کو ٹارگیٹ بنایا گیا ہے. اس مہم کے تحت مسلم لڑکیوں کی ہندو لڑکوں سے دوستی کرائی جاتی ہے، اور اسی دوستی کی آڑ میں محبت کا جال پھیلا کر اس لڑکی کو گھر والوں کی بغاوت پر آمادہ کرکے گھر سے فرار کرایا جاتا ہے. بعد میں ان کا مذہب تبدیل کر کے، اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کرنے کے بعد انہیں بے سہارا چھوڑدیا جاتا ہے۔
سنگھی تنظیموں کے طریقے:
چوں کہ شدت پسندوں کا سب سے آسان نشانہ کالج اور یونیورسٹی جانے والی لڑکیاں ہوتی ہیں اس لئے ایسی لڑکیوں کو ورغلانے اور ٹارگیٹ کو پورا کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں جن میں سے چند اہم طریقے درج ذیل ہیں:
کالج و یونیورسٹی میں اسباق اور لکچر کے نوٹس(Notes) وغیرہ دیکر جان پہچان پیدا کی جاتی ہے. بعد میں اسی طرح دیگر امور میں کوآپریٹ(Cooperate)(ایک دوسرے کی مدد) کرکے دوستیاں کی جاتی ہیں.
کچھ مسلم تہواروں پر مثلاً عید وغیرہ پر تحفہ تحائف دیکر مسلم تہذیب کی تعریف وتوصیف کر کے خود کو اسلام کی تعلیمات سے متاثر بتایا جاتا ہے.
مختلف خاص مواقع مثلاً ’برتھ ڈے‘ جیسے موقع پر مہنگے گفٹ موبائل، کپڑے، جوتے، پرس وغیرہ دیکر امپریس (Impress) (متاثر) کیا جاتاہے.
پکنک وغیرہ کے بہانے اچھے ہوٹلوں میں جا کر کھانا کھلانا اور واپسی پر گفٹ دینا بھی اسی معمول کا حصہ ہے۔
کالج کے بعد ٹیوشن کے بہانے مختلف کوچنگ سینٹرز میں آنے پر آمادہ کیا جاتا ہے. اس وقت تک لڑکی اتنا متاثر ہوچکی ہوتی ہے کہ وہ مختلف بہانے بنا کر والدین کو ٹیوشن پر بھیجنے کے لیے راضی کرہی لیتی ہے۔
رکشا بندھن جیسے ہندو تہوار کے موقع پر ‘بھائی بہن کے رشتے’ کے نام پر مسلم لڑکیوں کو گھر بلایاجاتا ہے اور والدین ‘بھائی بہن’ کے نام پر اجازت بھی دے دیتے ہیں۔
ایسی تقریب کے بہانے مسلم لڑکی کو اپنے گھر لے جا کر اچھی خاطرداری کی جاتی ہے. واپس آکر وہ لڑکی اپنے گھر میں ہندو گھرانوں کی مہماں نوازی کی قصیدہ خوانی کرتی ہے. اس سے آئندہ کے لیے ہندو گھروں میں بھیجنے کے لیے والدین کا رویہ بھی نرم ہو جاتا ہے. کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایسی ہی کسی تقریب کے موقع پر لڑکی کی ماں یا بہن کے لیے کوئی تحفہ بھیج دیا جاتا ہے جس سے ماں بہن بھی متاثر ہوجاتی ہیں۔
عموماً ہندو رہائشی علاقے مسلم علاقے کی بنسبت زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں. یہ چیز بھی بہکانے میں بڑی معاون ہوتی ہے۔ ہندو علاقوں کی ترقی، دنیاوی شان وشوکت اور ظاہری قدر دانی کی بنیاد پر لڑکی حد درجہ متاثر ہوچکی ہوتی ہے. یہی وہ موقع ہوتا ہے جب ان پر محبت کا جال پھینکا جاتا ہے اور وہ کسی آسان شکار کی مانند اس جال میں پھنس جاتی ہیں۔
اور اسی جال میں پھنس کر اپنی عزت و آبرو لٹا بیٹھتی ہیں۔
بعد میں انہیں گھر سے بھگا کر مرتد بنایا جاتا ہے اور شادیاں کی جاتی ہیں. کچھ وقت کے بعد یا تو انہیں آرکیسٹرا یا کلبوں میں ناچ گانے پر مجبور کیا جاتا ہے یا انہیں طوائف خانوں پر بیچ دیا جاتاہے۔
اغوا وارتداد کے تازہ واقعات:
سَنگھی تنظیموں نے اپنے منصوبوں پر عمل کرتے ہوئے ملک کے مختلف حصوں میں مسلم لڑکیوں کے خلاف یہ مہم شروع کردی ہے ۔
مسلم لڑکیوں کے اغوا اور جبری ارتداد کے لیے آر ایس ایس کی کئی تنظیمیں میدان عمل میں کام کر رہی ہیں جن میں چند یہ ہیں:
وِشّوَ ہندو پَرِیشَد،
ہندو جاگرَن منچ،
ہندو یُوا واہِنی،
بجرنگ دل،
وندے ماترم مشن،
بھارت سیوا شرم سَنگھ،
ہندو سَہْمَتِی سَنگٹھن وغیرہ۔
یہ ساری تنظیمیں علانیہ اپنے اس غیر قانونی ایجنڈے پر عمل کر رہی ہیں.
ان کی شرانگیزیوں کے چند نمونے دیکھیں:
ہریانہ صوبہ کے شہر "حصار” میں ’اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا‘ نے ‘بیٹی بچاﺅ،بہو لاؤ’ مہم کے آغاز کے موقع پر مسلم لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسانے والے ہندو لڑکوں کو ایک لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا. اور ساتھ ہی ان کی مکمل حفاظت اور سماج میں ان کی عزت وشہرت کا یقین بھی دلایا۔
ہندو جاگرن منچ یوپی کے مُکھیا اَجُّو چَوہان نے 1 دسمبر 2017ء کو اعلان کیا کہ قریب 2100 مسلم لڑکیاں ان کے رابطے میں ہیں، جن کی اگلے چھ مہینوں کے اندر تبدیلی مذہب کے بعد ہندو لڑکوں سے شادی کرائی جائے گی۔
اتراکھنڈ کے "لکسر” اسمبلی حلقہ کے ممبر اسمبلی سنجے گپتا نے مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانے کے لئے "لو کرانتی”[Love kranti] نامی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے. جس کے تحت سنجے گپتا نے 500 ہندو لڑکوں کا ایک گروپ بنایا ہے اور ان سبھی لڑکوں کو مسلم لڑکیوں کو محبت کے جھوٹے جال میں پھنسا کر گھر سے بھگا کر مرتد بنانے کا ٹارگیٹ دیا ہے.
انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق، وی ایچ پی کا کہنا ہے کہ ہندو نوجوانوں کو ان مسلم لڑکیوں سے شادی کرنی چاہئے جو ذہنی طور پر ہندو مذہب کے قریب ہوں اور انہیں ہندو دھرم کا حصہ بنانا چاہئے۔ ریاست میں اپنی مہم کے تحت وی ایچ پی کی جانب سے جو پمفلیٹ تقسیم کئے جا رہے ہیں ان میں ہندو خواتین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ لو جہاد سے بچ کر رہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس کو کہا جا سکتا ہے کہ ہندو خواتین کو بچاؤ اور مسلم خواتین کو پھساؤ۔
انگریزی اخبار "انڈین ایکسپریس” کے مطابق مغربی بنگال کے جن علاقوں میں بی جے پی کی سیاسی حیثیت مضبوط ہوئی ہے وہاں RSS نواز تنظیموں نے مسلم لڑکیوں کو پھنسانے کے لئے زبردست مہم چھیڑ رکھی ہے. وشو ہندو پریشد کے نیتا ‘بادل داس’ کے مطابق ان کی تنظیم نے ایک سال میں قریب پانچ سو مسلم اور عیسائی لڑکیوں کو ہندو بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
یوپی کے مشہور نوابی شہر ‘رامپور’ میں سَنگھی تنظیموں کے کچھ غنڈوں نے ایک 14 سالہ نابالغہ مسلم لڑکی کو اغوا کرکے جنسی زیادتی کی اور زبردستی مرتد بنانے کی کوشش کی. پولیس نے حسبِ امید شرپسندوں کا ساتھ دیا. !!
یہ واقعہ اس لحاظ سے مسلمانوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے کہ "رامپور” شہر ہندوستان کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی شہر ہے. جب اتنی بڑی مسلم آبادی میں مسلم لڑکی کو اغوا کر کے ہفتوں تک اسے محصور کیا جاسکتا ہے تو دیگر شہروں اور علاقوں میں شدت پسندوں کی غنڈہ گردی کا عالم کیا ہوگا؟
رواں مہینے 12 اکتوبر 2018ء کو متھرا [یوپی] کی رہنے والی ایک لڑکی ‘عرشی خان’ نے کھلے عام ہندو مذہب اختیار کرلیا !
اور ‘عرشی’ سے ‘آروشی’ بن گئی. اس لڑکی کا کہنا تھا کہ مسلم سماج میں خواتین کی کوئی عزت نہیں ہے جب کہ ہندو سماج میں "درگا” "لکشمی” اور "سیتا” جیسی خواتین ہیں جن کی پوجا کی جاتی ہے۔ اسی لئے وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنی خوشی سے ہندو مذہب قبول کر رہی ہے۔ (سواد اعظم دہلی)
پچھلے دنوں پونہ شہر سے یہ خبرآئی کہ ’اکتوبر 2016 سے اکتوبر 2017 کے مابین 44 مسلم لڑکیوں نے غیرمسلم لڑکوں کے ساتھ شادیاں کیں!!
ایک اخباری اطلاع کے مطابق شہر دکن کی چار لڑکیاں جو اعلی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہے، اپنے عاشقوں کے ساتھ رفو چکر ہوگئی ہے، اور انکے والدین صدمے کا شکار ہے لیکن اب پچھتائے کا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت،
مرتد ہونے والی ان بچیوں کی فہرست
(Department of Registeration and Stamp Govt of Maharashtra)
کی اس ویب سائٹ پر مل جائے گی جس کے مطابق صرف ریاست مہاراشٹرمیں ہی گزشتہ دو ماہ میں مسلم بچیوں نے 75 سے زائد غیر مسلم نوجوانوں سے شادی کیلئے آن لائن ایپلی کیشن دی ہوئی ہیں۔
گجرات ،دہلی اور ایم پی وغیرہ سے ایسی ہی دل خراش خبریں آئیں ہیں جن کو پڑھ کر سر شرم سے جھک جاتاہے۔
مولانا عمرین محفوظ رحمانی صاحب (ممبر مسلم پرسنل لا بورڈ) کی رپورٹ
گذشتہ سال مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایک پروگرام میں مہاراشٹر کے مشہور شہر پونہ جانا ہوا تو ایک صاحب ملنے کے لیے آئے انہوں نے بتایا کہ ان کی بھانجی کالج میں پڑھتی تھی، کالج کے قریب ایک دلت نوجوان کینٹین چلاتا تھا، اس کے دام محبت میں پھنس کر بھانجی نے کورٹ میرج کر لی، اور کئی مہینے اس کے ساتھ رہی پھر بہت سمجھانے بجھانے کے بعد واپس آئی،اور ہم نے اسے دوبارہ کلمہ پڑھوایا، ایما ن میں داخل کیا مگر اب بھی وہ اسی کے پاس جانے کی ضد کرتی ہے، روتی ہے اور ہمیں اندیشہ ہے کہ کہیں وہ دوبارہ اس کے پاس نہ چلی جائے۔ان صاحب کے چلے جانے کے بعد پونہ کے چند ذمہ دار احباب نے بتایا کہ ہمارے یہاں پچھلے ایک سال میں
( اکتوبر 2016ء سے اکتوبر 2017ء تک ) 44مسلمان لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کرچکی ہیں، ابھی چند دن پہلے خاص اسی مسئلے سے متعلق پونہ کے احباب ملنے کے لیے آئے تو انہوں نے بتایا کہ اگست میں11؍مسلمان لڑکیوں کی غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ شادی کی درخواستیں دائر ہوئی ہیں اور پچھلے مہینے (ستمبر) میں 12؍لڑکیوں نے درخواست دی ہے۔مہاراشٹرکے دوسرے اور شہروں سے بھی اس طرح کی خبریں آرہی ہیں چنانچہ، بمبئی میں12،تھانے میں7، ناسک میں2، اور امراوتی میں2؍لڑکیوں نے شادی کی درخواست دی ہے،
اگست کے وسط میں بھوپال جانا ہوا تھا ، وہاں مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی برائے خواتین کی ذمہ دار بہنوں نے بتایا کہ بھوپال کی گنجان مسلم آبادی والے ایک علاقے میں اس طرح کے دسیوں واقعات ہو چکے ہیں، اور صرف غیر شادی شدہ لڑکیاں ہی نہیں شادی شدہ عورتیں بھی اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر غیر مسلموں کے ساتھ چلی گئی ہیں دہلی سے ملی اطلاعات کے مطابق جھونپڑ پٹی والے علاقے میں بسنے والی مسلمان لڑکیاں فرقہ پرست عناصر کی اس منصوبہ بند سازش کا’’لقمۂ تر‘‘بنی ہوئی ہیں، گذشتہ شعبان میں احمد آباد حاضری ہوئی تو وہاں کے علماء نے بتایا کہ ہمارے یہاں ہر دوسرے تیسرے دن سوشل میڈیا پر خبر آتی ہے کہ فلاں مسلمان لڑکی کسی غیر مسلم لڑکے کے ساتھ گھر سے بھاگ گئی ہے یا فلاں لڑکی نے کورٹ میرج کی عرضی داخل کی ہے، بات یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ ان لوگوں نے یہاں تک بتایا کہ مسلمان لڑکیوں کو رجھانے ،قریب کرنے اور پھر ان کا جنسی استحصال کرنے کے لیے گراں قیمت تحفے دیئے جاتے ہیں، مثلاً مہنگے موبائیل ،آئی پیڈ، لیپ ٹاپ، ایکٹیوا بائک وغیرہ، باضابطہ ان کی ’’فنڈنگ‘‘کی جا رہی ہے اور ایک سونچے سمجھے منصوبے کے تحت انہیں اس کام پر لگایا گیا ہے،الخ
مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب لکھتے ہیں
دہرادون سے میرے دوست جناب مفتی رئیس احمد قاسمی سے فون پر بات ہوئی انھوں نے اپنے محلے کی بڑی افسوس ناک خبر سنائی۔ ایک کھاتے پیتے مسلم گھرانے کی لڑکی ایک بھنگی کے ساتھ بھاگ گئی۔ مفتی صاحب نے انتظامیہ پر دباؤ ڈالا تو ڈیڑھ دن بعد پولیس نے لڑکی کو برآمد کرلیا، والدین کے سمجھانے، رونے اور گڑگڑانے کے بعد لڑکی مفتی صاحب سے بات کرنے کے لیے تیار ہوگئی۔ ڈھائی گھنٹے انھوں نے بھی اللہ رسول کا واسطہ دیا مگر لڑکی جیسے ہی جج کے سامنے پہنچی، اس نے اس بھنگی کے ساتھ جانے کا اور ساتھ ہی اپنے ہندو ہونے کا اعلان کردیا۔ مفتی صاحب کے بقول وہ اور اس لڑکی کے رشتے دار شرمندگی کی وجہ سے فوراً ہی عدالت سے نکل گئے۔ مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں 5 ایسی مسلم لڑکیاں ہیں جو صرف بھنگی برادری میں گئیں ہیں، عام ہندوؤں کے ساتھ جانے والی لڑکیوں کی اکیلے دہرادون میں ہی ایک بڑی تعداد ہے۔
ہمارے اکابر پر اللّٰہ رحمت برسائے، صرف ایک واقعہ ارتداد کا آج سے ایک صدی قبل پیش آیاتھا،
انیسویں صدی کی ابتدا میں یہ واقعہ ارتداد شاہجہان پور میں ہوا تھا ۔ جس کا ندوے کے سالانہ جلسہ میں ذکر و تجزیہ کرتے ہوئے بڑے درد کے ساتھ علامہ شبلی نعمانیؒ نے فرمایا تھا کہ اگر تم ارتداد کو نہیں روک سکتے تو ندوہ کو بھی آگ لگا دو اور علیگڑھ کو بھی پھونک دو۔
افسوس! یہ ارتداد کی ہوائیں اب ہمارے معاشرے میں عام بات ہوچکی ہیں پہلے کبھی ایسے باتیں سن کر پیروں سے زمین نکل جاتی تھی، لیکن آج ایسی خبریں ہمیں روز مرہ کی زندگی میں سنے کو مل رہی ہیں اور ہمارے ملی قائدین، رہبر، رہنما، والدین خوب خرگوش میں مست ہے، ماحول کا اثر معاشرے میں موجود افراد پر ضرور اثر انداز ہوتا ہیں ہر کوئی اپنے گھر کا ذمے دار ہیں اور کل قیامت کے دن سرپرستوں سے پوچھ ہوگی اس شخص کو "دیوس" کہا گیا جو اپنے گھروں کی خواتین کی خبر نہیں رکھتا، غیر مذہب کے نوجوانوں کے ساتھ مسلم لڑکیوں کا فرار ہوجانا پورے مسلم معاشرے کیلئے شرم کی بات ہے یہ ہمارے عزت و ناموس کا مسلہ ہے۔ اسلئے ضروری ہے کے ہم اپنے گھر کی اپنے خاندان اپنی بستیوں کی نگرانی کریں، والدین لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے نام پر تمام سہولیات فراہم کرتے ہیں اور بے فکر ہوجاتے ہیں کہ انکی بچی اسکول کالج جارہی ہے اور وہ لڑکی اپنے غیر مسلم فرینڈ کے ساتھ ڈیٹ پر جارہی ہوتی ہے تو کوئی پارکوں اور ہوٹلوں میں گل چھریں اڑاتی نظر آتی ہیں، اور اپنی عزت اپنے والدین کی عزت کو تار تار کر دیتی ہیں، اور وہ جھوٹے عاشق انہیں کچھ دن استعمال کرکے فرار ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی شادی کر بھی لیں تو اس مسلم لڑکی سے مذہب تبدیل کرنے کیلئے کہتے ہیں اور وہ دھوکے میں آکر دین و دنیا دونوں کو برباد کر دیتی ہے،
افسوس صد افسوس!!
محبت کے نام پر تعیش پسندی مالدار والدین کی لا پرواہ اور بگڑی ہوئی اولادوں کا مقدر بن کر رہ گئی ہیں کیونکہ شرافت اخلاق راہ روی اور پاکدامنی کے لئے مال حلال یا لقمہ حلال اولین شرط مقرر کی گئی۔ اس شرط کی تکمیل کے بنا انقلاب کا تصور تو دور کی بات ہے مسلمان ہونا بھی ممکن نہیں ہوتا۔
انٹر کاسٹ میرج کو قانونی حیثیت حاصل ہیں اس لئے اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے نوجوانوں کی اصلاح ضروری ہے وقت گذر جانے کے بعد صرف ماتم ہی مقدر بن جاتا ہے۔پچھلے کچھ ماہ کا جائزہ لیں تو ہمارے شہر میں ان گنت معاملے سامنے آئے اور کئی لڑکیوں نے اپنے مسلم وغیر مسلم عاشقوں سے شادیاں رچالی ہے اور ان کے اس اقدام کے لئے والدین کی مکمل ذمہ دار ہیں جو وقت سے پہلے مہنگے مہنگے قسطوں پر خریدے گئے اینڈرایئڈ موبائل کی فراہمی، اور تحفہ دینے کے بعد اس کی باز پرس بھی نہیں کرتے ۔ آیا وہ غلط استعمال کررہی ہے یا صحیح۔ ۔ ۔ ؟
کس سے ملاقات ہوتی ہیں اس کا دن کس کے ساتھ گزرتا ہے اور کلاس کالجس میں اسکی کس سے دوستی ہے یہی غفلت بعد میں ماتم کرنے پر مجبور کردیتی ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین کو اس کا وقت کے ساتھ نوٹ لینا ہوگا۔ کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو والدین سکھاتے ہیں اگر والدین وقت پر صحیح اصلاح کرتے رہیں تو بعد میں رونے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
والدین بھی اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ لڑکی کی دوستی، عشق اور شادی ہونے تک وہ اس پورے معاملے سے لا علم رہتے ہیں۔ جب تک لڑکی کو کوئی لڑکا لے کر بھاگ نہ جائے والدین کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کی بیٹی جوان ہوچکی ہے۔
نتیجتاً لڑکیاں شادی سے پہلے ہی کئی بار شادی شُدہ والی زندگی گزار چکی ہوتی ہے، پہلے ایسا ہونے پر عزت کی نیلامی ہوتی تھی۔ اور چہ مئے گوئیاں سے بچنے کے لئے لوگ گھر یا علاقہ بدل لیتے تھے۔ بےغیرتی کی بھی حد ہے کئی والدین یہ کہ کر ہندؤں کے پناہ میں چلے گئے کہ ہمیں مسلمانوں سے خطرہ ہے۔
اس قسم کے واقعات کو پڑھ کر ہم میں اکثر کی غیرت و حمیت میں کسی قسم کا کوئی
جوش یا اس کے تدارک کی کوئی کوشش نظر نہیں آرہی ہے۔ سوائے معدودے چند ایسے افراد کے جن کے اندر ابھی دینی غیرت و ملی حمیت کی کچھ رمق باقی ہے۔ وہ بیچارے اپنی بساط کے بقدر ذمہ داران ملت سے فریاد کرتے نظر آرہے ہیں،
ہم میں سے ہر شخص نے شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنا سر چھپا کر اپنے آپ کو محفوظ تصوّر کرلیا ہے۔
ارتداد کے بنیادی اسباب :
غور کیا جائے اور سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو اس برائی، بل کہ بے حیائی کے بہت سارے اسباب ہیں ؛ جن میں فحش وناجائز تعلقات پر مبنی ٹی وی سیریل ، موبائیل کا غلط استعمال، مخلوط نظام تعلیم، ذاتی طور پر دینداری کی کمی اور مسلم گھرانوں میں دینی ماحول کا فقدان وغیرہ سر فہرست ہیں، آج عفت وعصمت ، پاکیزگی وپاک دامنی کی کوئی فضیلت واہمیت دلوں میں باقی نہ رہی؛ بل کہ عفت وعصمت کی قدروں کو پامال کرنا، ایک فیشن بن گیا اور جو شرم وحیاء اور عصمت کی بات کرے وہ ان لو گوں کی نظر میں دقیانوسی اور حالات زمانہ سے بے بہرہ اور تاریک خیال ٹھہرایا گیا۔ اخلاق وشرافت، تہذیب وانسانیت کی جگہ حیوانیت و درندگی، و بدتہذیبی نے لے لی اور انسانیت واخلاق کی توہین کرنا ،ایک محبوب مشغلہ بن گیا
آئین ہند کی دفعہ ۱۹ یعنی Freedom of Right ان بے حس والدین کے منہ پر تماچہ ہے جو وقت پر صحیح تربیت نہ دے کر اپنے بچوں کو گرل فرینڈ بوائے فرینڈ شپ ڈے، ولین ڈائن ڈے، کے حوالے کررہ ہے ہیں۔
ہم کب بیدار ہوں گے ؟
ہم اپنی بہنوں ،بچیوں اور بیٹیوں کو بچانے کے لیے کب آگے آئیں گے؟
خواب غفلت کب تک ؟
نظر انداز کرنے کا مزاج کب تک ؟
مصلحت کا چادر تان کر کب تک سوتے رہینگے؟
جب حالات ایمرجنسی کے ہوں؟
جب معاملات سنگین صورت حال اختیار کرلیں؟
جب دین و ایمان پر یلغار کی جائے؟
جب عفت وعصمت کے سودے چکائے جائیں؟
جب منظم منصوبے کے تحت مسلمان لڑکیوں کی زندگیاں تباہ وبرباد کی جائیں؟
اس وقت خاموشی جرم ہے، سنگین جرم!
ارد گرد نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے اپنے گھر سے شروع کیجئے۔ جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا جائے۔ اسلامی تعلیمات کو فروغ دی جائے۔ اتداد جیسے قبیح عمل کی قباحت پر توجہ مبذول کروائے جائیں ہم سب کو انفرادی طور پر اس پر محنت کرنی ہوگی۔ کوئی تنظیم یا ادارہ بس ہمیں لائحہ عمل دے سکتا ہے مگر کام بہر صورت ہمیں ہی کرنا ہوگا اور خاص طور پر نوجوان طبقے کو اس میں آگے آنا ہوگا۔ ہم نے موبائل دیا ہے تو اس کی جانچ بھی ہمیں کرنی ہوگی لڑکیاں کہاں جارہی ہیں۔ کس سے بات کررہی ہیں ؟
یہ ایسا اہم مسئلہ ہے جسے مسجد کے محراب و منبر سے بیان کیا جائے ، جسے جلسوں اور مجلسوں کا موضوع بنایا جائے، جس کے پیش نظر خاندانی نظام کی اصلاح پر بھرپور توجہ دی جائے، جس کی وجہ سے اپنے گھر کی بچیوں پر کڑی نظر رکھی جائے،
اس سے پہلے آزادی کے بعد جب ارتداد کی ہوا چلی تھی، دعوت و تبلیغ کی محنت سے اس کا خاتمہ کیا گیا تھا، دور یوسفی 1950 کی کارگزاریاں اس پر شاہد ہے، لیکن افسوس کچھ ناعاقبت اندیش امیروں نے اس تحریک کو بھی مسجدوں تک محدود کردیا، نتیجتاً جن لوگوں کو گھر گھر دین کی دعوت کو پہنچانا تھا وہ لوگ مرغوں کے جان کے پیچھے پڑے ہوئے ملینگے ۔ سوائے معدودے چند ایسے افراد کے جو اب بھی اخلاص کے ساتھ اس کام کو کررہے ہیں۔ ضروری ہے کہ علماے کرام آگے آئیں، مروجہ تبلیغی جماعت میں جو خامیاں ہیں اسے دور کریں، اس کی زمام اپنے ہاتھوں میں لیں، جاہل امیروں کے چنگل سے اسے آزاد کرائیں، اختلافات کو ختم کریں اور پوری طاقت و قوت کے ساتھ ایک بار پھر اس محنت کے ساتھ جڑ جائیں، ان شاء اللہ ضرور بالضرور انقلاب آئے گا اور ارتداد کا خاتمہ ہوگا،
اس ارتداد کے ذمے دار کوئی اور نہیں بلکہ ہم اور ہمارے علمائے کرام ہیں جنھوں نے ایسے دینداروں کے لیے تو ادارے قائم کردیے جو خود چل کر انکے پاس دین سیکھنے آتے ہیں مگر ان 97 فیصد مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کا کیا جنھیں مدرسے نہیں جانا ہے۔ ہمیں فوراً سے پہلے اپنے اپنے محلے سے آغاز کرتے ہوے ایسے مسلم بچوں کے تعلق سے ملک گیر مہم کا آغاز کرنا ہوگا
اس ارتداد کی تیز و تند آندھی کو روکنے اور اس سیلاب بلا خیز پر بندھ لگانے کے لیے معاشرے کے تین طبقات پر تین بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
سب سے پہلے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ہر نقل و حرکت پر غیر محسوس طریقے سے نظر رکھیں، بچپن ہی سے انہیں اسلامی تعلیمات اور نبوی اخلاق کا پابند بنائیں، مغربی کلچر اور بے حیا تہذیب سے کوسوں دور رہنے کی تلقین کریں، بلوغ کے بعد نکاح میں عجلت سے کام لیں، ادراک وشعور سے پہلے موبائل اور انٹرنیٹ سے حتی الامکان بچائیں اور اگر ناگزیز ضرورت کے سبب اجازت بھی دیں تو مثبت ومنفی استعمال کی کڑی نگرانی کریں، اسلامی نظام کے مطابق مسلمان بچیوں کو پردے کا پابند بنایں ، ان میں حیاداری، عفت و عصمت کی حفاظت کا جذبہ، اور عقیدۂ توحید و رسالت کی عظمت پیدا کریں، مخلوط نظام تعلیم سے اپنی بچیوں کو بچایں۔ جو لڑکیاں اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہی ہیں، ان کی دینی تعلیم وتربیت اور ذہن سازی کی بھرپور کوشش کی جائے ، ان کی عادات ، اطوار ، اخلاق پر پوری نظر رکھی جائے، کسی ٹیچر یا ساتھی طالب علم کے گھر پر کسی تعلیمی ضرورت کے نام سے بھی جانے کی اجازت نہ دی جائے، اینڈرائڈ موبائیل اور بائک خرید کر نہ دی جائے، یہ دونوں چیزیں بے حیائی کے دروازے کھولنے والی اور عفت وعصمت کی تباہی کے دہانے تک پہونچانے والی ہیں ۔ غیر مسلم لڑکیوں کی دوستی سے بھی روکا جائے کہ آئندہ یہ دوستی بھی کسی فتنہ کا دروازہ بن سکتی ہے۔ اغیار کے رسوم ورواج اور مشرکین کی تہذیب و ثقافت سے بچیوں کو بچانا بھی بے حد اہم اور ضروری ہے. سب رسمیں کہیں نہ کہیں غیروں کے مذہب سے قربت کی وجہ بنتی ہیں.
علماء امت اور ائمہ مساجد کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوان طبقہ سے اپنے تعلقات استوار کریں، انہیں مختلف حیلوں سے اپنے قریب کرتے رہیں، نسل نو کو پوری سنجیدگی کے ساتھ اس بات سے آگاہ کریں کہ ایمان اور اسلام ہی ایک مسلمان کا سب سے بڑا سرمایہ اور دولت گراں مایہ ہے، اس لیے کہ دونوں جہاں کی کامیابی اسی ایمان پر منحصر ہے ۔ انہیں مکی دور میں صحابہ کرام کے مجاہدات سے روشناس کرائیں اور بتائیں کہ ایمان و اسلام کی حفاظت اور بقا کے لئے ادنی سا ادنی مسلمان جان، مال اور عیال سے گذر جانا تو گوارا کر لے گا، لیکن اس سرمایے پر کسی سمجھوتے اور سودے کے لئے تیار نہيں ہوگا، کیوں کہ محسن انسانیتﷺ نے حضرت معاذ ؓ کے واسطے سے پوری امت کو یہ وصیت فرمائی ہے کہ کسی حال میں شرک نہ کرنا خواہ تم قتل کردیئے جاؤ یا جلا دیئے جاؤ ( مسند احمد )
علما اپنے ساتھ بیس پچیس نوجوانوں کی ٹیم بنائیں اور ان کے ساتھ مل کر ہر کالج واسکول میں پڑھنے والوں کی نشاندہی کریں اور ان کو سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے سے مربوط کریں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور کاروان آمن و انصاف کے شوشل ڈیکس سے جوڑیں، ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کی سرجیکل اسٹرائیک کو دیکھنے کی تلقین کریں۔
"یہ تمام چیزیں فتنہ ارتداد بلاگ میں موجود ہے"
لڑکیوں کے مدارس بھی ماشاء اللہ بہت ہوچکے ہیں، ان مدارس کی فاضلات کو اب میدان عمل میں آنا ہوگا اور لڑکیوں کو اپنے سے مربوط کرنا ہوگا۔
اسکول و کالجز جانے والی بچیوں کی اسلامی تعلیم وتربیت کے لیے جز وقتی اداروں کا قیام وقت کا جبری تقاضا ہے۔
اردو کے بجائے ہندی کا استعمال ہو تا کہ یہ افراد بآسانی سمجھ سکیں۔
وقتا فوقتا ان لڑکے اور لڑکیوں کے احوال معلوم کرتے رہیں۔ یہ ہرگز نہ سمجھیں کی آپ شعبہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی پولیس ہیں۔ بلکہ یہ لوگ آپ کی تالیف قلب کے محتاج ہیں۔
دینی وملی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موضوع کو مستقل تحریک کی شکل دے کر شعور بیداری مہم چلائیں، شہر شہر،گھر گھر،قریہ قریہ،چپہ چپہ اس حوالے سے لوگوں کو بیدار کریں، بڑے پیمانے پر مکاتب کا قیام اور تعلیم بالغان کا اہتمام کیا جائے، نوجوانوں کی ذہن سازی اور تربیت کے لیے چھوٹے چھوٹے ورک شاپ منعقد کیے جائیں۔
قوم کے ارباب حل وعقد کو ترجیحی بنیادوں پر عصری اداروں کاقیام کرنا لازمی ہے جہاں اسلامی ماحول میں اعلیٰ تعلیم کا اہتمام کیا جاسکے. ورنہ دوسروں کے اداروں میں حفاظت کی لاکھ تدابیر کے باوجود خطرہ لاحق رہے گا۔
قانونی چارہ جوئی کے لیے دین دار وکلا کا ہونا بھی وقت کی پکار ہے. اس لیے اس جانب بھی پیش قدمی لازم ہے۔
اس کے علاوہ بھی جو چیزیں آپ قابل عمل سمجھتے ہوں، ضرور کریں۔ اور خدا کے واسطے اس انتظار میں نہ بیٹھیں کہ ملی تنظیمیں اپیلیں جاری کریں گی تو ہم حرکت کریں گے۔ ہر عالم دین اگر 15 سے 20 لوگوں پر بھی محنت کرے تو قوم کے ایمان کی حفاظت کی جاسکتی ہے ورنہ دنیا کی رسوائی کے ساتھ ساتھ یہی لوگ روز محشر میں آپ کا دامن بھی پکڑ لیں گے۔ اللہ تعالٰی مسلمانوں کو ارتداد سے بچائے۔ آمین ۔
کچھ باتیں اپنی قوم سے:
یوں تو آزادی کے بعد سے ہی مسلمان شرپسندوں کے نشانے پر ہیں لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ان شر انگیزیوں کی رفتار کئی گنا بڑھ گئی ہے. پچھلے چار سالوں میں مسلمانوں کی جان، مال، عزت وآبرو، کھانے، لباس، رہائش، تعلیم، مدارس، مساجد وغیرہ پر جم کر حملے کیے گئے ہیں اور آثار بتاتے ہیں کہ جلد یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے. کیا ان سارے حملوں کے باوجود ہماری قوم نے ان کے سدباب کے لئے کوئی تدبیر اختیار کی؟
جس آگ کو اپنے سے دور سمجھ کر ہم تماشا دیکھ رہے تھے، اب وہ آگ ہمارے آنگن تک آپہنچی ہے کیا اب بھی خاموش تماشائی بنے رہیں گے؟
کل تک اغیار اپنی اکثریتی آبادیوں میں ظلم وستم کا کھیل کھیلتے تھے اب وہ اتنے بے لگام ہوگئے ہیں کہ ہماری آبادیوں میں گھس کر ہماری ہی بہن بیٹیوں کی عزتوں کو پامال کر رہے ہیں.
کیا اب بھی ہماری غیرت سوتی رہے گی؟
باتیں بہت ہیں لیکن مفید تبھی ہوں گی جب ہم اقدام عمل کریں گے. اس لیے اٹھیں اور اپنی بساط کے مطابق ملت کی فلاح وبہبود کے کاموں میں لگ جائیں۔
اخیر میں ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بارگاہ ایزدی میں استقامت علی الایمان کی دعائیں کریں،اللہ سے گناہوں کی معافی مانگیں اور اپنی اپنی حیثیت و وسعت کے مطابق دین وایمان کے تحفظ کی کوشش کریں ۔
اقبال تیری قوم کا اقبال کھوگیا
ماضی تو سنہرا ہے مگر حال کھوگیا
(حوالہ جات،مختلف مضامین و ریپورٹ)
"مسلمانوں کے خلاف سنگین سازش و ارتداد کو جاننے اور اس کے تدارک کے لیے اس بلاگ پر تشریف لائیں"
www.irtidad.blogspot.com
