سوتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش

نئی اشاعت

منگل، 16 اکتوبر، 2018

سرجیکل اسٹرائیک نمبر 24

سرجیکل اسٹرائیک

(قسط 24)
مدارس یا آر ایس ایس شاکھائیں؟

یاسر ندیم الواجدی
الحمد للہ 21 جنوری کو نشر ہونے والا سرجیکل اسٹرائیک شو بھی اپنی سابقہ قسطوں کی طرح کامیاب رہا۔ دیوبند انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ کے چیرمین ڈاکٹر عاطف سہیل صدیقی کے علاوہ شو میں آر ایس ایس کے لیڈر اور وزارت برائے فروغ انسانی وسائل سے منسلک جناب یاسر جیلانی بھی شریک رہے۔ یاسر جیلانی کے سامنے ہم نے بہت سے سوالات رکھے لیکن افسوس کہ ان سوالات کا ہمارے ناظرین کو تشفی بخش جواب نہیں ملا، ہم نے ان سے سوال کیا کہ اگر آر ایس ایس اتنی ہی صاف ستھری تنظیم ہے تو اس پر امریکہ کی فیڈرل کورٹ میں کیس کیوں چلا؟ ہم نے ان سے پوچھا کہ ساورکر نے ہٹلر اور نازی پارٹی کی تعریف کیوں کی؟ ہم نے یہ بھی پوچھا کہ ساورکر کے مطابق اسلام ایک بیرونی اور غیر قانونی مذہب ہے، آخر وہ اپنے کو اس تنظیم ایک مسلمان ہونے کے باوجود کیسے فٹ کرتے ہیں؟  دیگر بہت سے سوالات ان سے پوچھے گئے لیکن وہ پورے مذاکرے میں موضوع سے بھاگتے رہے یا پھر چیختے رہے جو کہ آر ایس ایس کے لوگوں کا خاص وطیرہ ہے۔ عام طور پر جب ان لوگوں کو ٹی وی پر بلایا جاتا ہے تو یہ اینکر کے جن سنگھی ہونے کا فائدہ اٹھالیتے ہیں، علماء کو ذلیل کیا جاتا ہے یا پھر انھیں بولنے نہیں دیا جاتا، جس سے عوام میں علمائے کرام کے تعلق سے ایک منفی پیغام جاتا ہے اور یہی ان بھکتوں کا مقصد ہے۔ سرجیکل اسٹرائیک کے ذریعے ہم نے متبادل میڈیا عوام کو دینے کی کوشش کی ہے جس کا مقصد مسلمانوں سے متعلق عائلی سیاسی اور معاشرتی مسائل میں حق کا ببانگ دہل اظہار اور باطل کا بر سر عام ابطال ہے اللہ تعالیٰ اس مقصد کے لیے ہمیں قبول فرمائے۔ بہرحال یاسر جیلانی کے ساتھ ہونے والا یہ دلچسپ مذاکرہ فیس بک یوٹیوب اور واٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر آگیا ہے۔ ذیل میں یوٹیوب لنک دیا جارہا ہے۔ 



ہوم